الخميس، 15 يناير 2026

 

 

منهج الفرقة الناجية

فرقۂ ناجیہ کا منہج

فرقۂ ناجیہ کا منہج چند مضبوط اور مستحکم بنیادوں پر قائم ہے:

j فرقۂ ناجیہ کے منہج کی پہلی مستحکم بنیاد یہ ہے کہ وہ  کتاب اللہ اور سنت صحیحہ پر اکتفا کرتے ہیں  کیونکہ اللہ کے رسول   صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد ہے:

«تركت فيكم أمرين لن تضلوا ما إن تمسكتم بهما: كتاب الله وسنتي». [رواه مالك بلاغاً والحاكم موصولاً بإسناد حسن ]

«میں نے تم میں دو چیزیں چھوڑی ہیں جب تک ان دونوں کو مضبوط تھامے رہوگے ہرگز گمراہ نہ ہوگے، ایک اللہ کی کتاب اور دوسرے میری سنت».

جہاں تک اجماع کا تعلق ہے تو وہی اجماع معتبر ہے جو کتاب وسنت دونوں یا ان میں سے کسی ایک پر مبنی ہو، اور جہاں تک عقل وفطرت کا معاملہ ہے تو وہ اگر کتاب وسنت کے موافق ہیں تو قابل قبول ہیں ورنہ ان کی یہ حیثیت نہیں ہے کہ وہ شرعی عقائد یا احکام کے لئے مصدر بن سکیں۔

k  فرقۂ ناجیہ کے منہج کی دوسری مستحکم بنیاد یہ ہے کہ وہ   کتاب اللہ اور سنت صحیحہ کو عقل ورائے اور قیاس پر مقدم کرتے ہیں۔  کیونکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

ﵟيَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تُقَدِّمُواْ بَيۡنَ يَدَيِ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦۖ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٞﵞ [الحجرات: 1] 

(اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو، اور اللہ سے ڈرتے رہا کرو، یقیناً اللہ تعالی سننے والا جاننے والا ہے۔)

اللہ ورسول سے آگے بڑھنا یہ بھی ہے کہ کسی دینی معاملہ میں اللہ ورسول کا حکم دیکھنے سے پہلے ہی خود کوئی فیصلہ کرلیا جائے، یا ان کا فیصلہ آجانے کے بعد اپنی عقل ، رائے یا سوجھ بوجھ کو ترجیح دی جائے۔

l   فرقۂ ناجیہ کے منہج کی تیسری مستحکم بنیاد یہ ہے کہ وہ  کتاب اللہ اور سنت صحیحہ کی کسی بات کو کبھی رد نہیں کرتے خواہ وہ خبرواحد ہی کیوں نہ ہو اور نہ اس میں تحریف کرتے اور نہ ہی اس کی بے جا تاویل کرتے بلکہ سرتسلیم خم کردیتے اور اطاعت وفرماں برداری کے لئے سر جھکادیتے ہیں۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

ﵟوَمَا كَانَ لِمُؤۡمِنٖ وَلَا مُؤۡمِنَةٍ إِذَا قَضَى ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥٓ أَمۡرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ ٱلۡخِيَرَةُ مِنۡ أَمۡرِهِمۡۗ وَمَن يَعۡصِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلَٰلٗا مُّبِينٗاﵞ [الأحزاب: 36] 

(اور کسی مومن مرد وعورت کو اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کے بعد اپنے کسی امر کا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا،(یاد رکھو) اللہ تعالی اور اس کے رسول کی جو بھی نافرمانی کرے گا وہ صریح گمراہی میں پڑے گا۔)

نیز ارشاد ہے:

ﵟوَمَآ ءَاتَىٰكُمُ ٱلرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَىٰكُمۡ عَنۡهُ فَٱنتَهُواْۚﵞ [الحشر: 7] 

(جو کچھ رسول تمھیں دے دیں لے لو اور جس سے تمھیں روک دیں رک جاؤ)

چنانچہ صحابہ وتابعین اور سلف صالحین کا یہ متفق علیہ اصول تھا کہ کسی کی رائے وقیاس،وجدوذوق ، حکمت وسیاست، فکر وفلسفہ، حکایات ومنامات  اور معقولات کے ذریعہ قرآن مجید سے معارضہ نہیں کیا جاسکتا۔

یہی اہل سنت کا طریقہ ہے کہ قرآن مجید اور احادیث صحیحہ سے جو کچھ ثابت ہوجائے اسے فوراً قبول کرتے ہیں ، اسے کسی حالت میں رد نہیں کرتے۔  اس کے برخلاف اہل بدعت کا طریقہ یہ ہے کہ وہ پہلے ایک رائے قائم کرتے ہیں پھر کتاب وسنت میں دیکھتے ہیں اگر آیت یا حدیث ان کے موافق ہے تو اسے قبول کرتے ہیں اور اگر مخالف ہے تو تحریف یا تاویل یا مختلف شبہات پیدا کرکے اس سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں۔

m   فرقۂ ناجیہ کے منہج کی چوتھی مستحکم بنیاد یہ ہے کہ وہ کتاب اللہ اور سنت صحیحہ کے بعد صحابۂ کرام  رضی اللہ عنہم  کے اقوال وفتاوے کو تلاش کرتے اور مابعد کے لوگوں پر ان کو مقدم رکھتے ہیں  کیونکہ یہی رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی وصیت ہے ، آپ کا ارشاد ہے:

«إِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ بَعْدِي يَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، تَمَسَّكُوا بِهَا،وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ».(رواه أحمد وأبوداود والترمذي وصححه الألباني)

« تم میں سے جومیرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت سارا اختلاف دیکھے گا، لہذا تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو، اسے مضبوطی کے ساتھ تھام لو، اسے دانتوں سے مضبوط جکڑلو».

عبداللہ بن مسعود  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا: تم میں سے جو  کسی کاا سوہ اپنانا چاہتا ہو وہ محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  کے صحابہ کا اسوہ اپنائے کیونکہ وہ اس امت میں سب سے زیادہ نیک دل تھے، سب سے زیادہ گہرا علم رکھتے تھے، سب سے کم تکلف والے تھے، سب سے زیادہ درست راہ پر تھے ،  سب سے بہتر حال والے تھے،  وہ وہ لوگ تھے جن کو اللہ تعالی نے اپنے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  کی صحبت ورفاقت اور ان کے دین کی اقامت کے لئے منتخب کیا تھا، ان کی فضیلت کو پہچانو اور ان کے نقش قدم کی پیروی کرو کیونکہ وہ صراط مستقیم کے راہی تھے۔ (جامع بیان العلم وفضلہ)

n  فرقۂ ناجیہ کے منہج کی پانچویں مستحکم بنیاد یہ ہے کہ وہ عقیدہ کے ایسے مسائل اور غیبی امور  کے پیچھے نہیں  پڑتے جو انسانی عقل کی رسائی سے باہر ہیں بلکہ تسلیم ورضا اور ایمان وایقان کی روش پر قائم رہتے ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

ﵟوَلَا تَقۡفُ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهِۦ عِلۡمٌۚﵞ [الإسراء: 36] 

(اس بات کے پیچھے مت پڑو جس کا تمھیں علم نہیں)۔

o  فرقۂ ناجیہ کے منہج کی چھٹی مستحکم بنیاد یہ ہے کہ وہ  اس مقصد کا بھر پور اہتمام کرتے ہیں  جس کے لئے جن وانس کی تخلیق ہوئی ہے، جس کے لئے کتابیں نازل کی گئیں، جس کے لئے رسول بھیجے گئے، یعنی بندوں کو ایک اللہ کی بندگی پر قائم کرنا، اللہ کی توحید میں پائے جانے ہر خلل کو دور کرنا۔ یہی انبیائے کرام کی اولین دعوت تھی، اہل سنت بھی توحید کو قائم کرنے اور شرک کو مٹانے کے لئے انبیاء کے اسوہ پر کاربند ہوتے ہیں۔

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

ﵟقُلۡ إِنِّيٓ أُمِرۡتُ أَنۡ أَعۡبُدَ ٱللَّهَ مُخۡلِصٗا لَّهُ ٱلدِّينَﵞ [الزمر: 11] 

((اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ کہہ دیجئے! کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ اللہ تعالی کی اس طرح عبادت کروں کہ اسی کے لئے عبادت کو خالص کرلوں)۔

p  فرقۂ ناجیہ کے منہج کی ساتویں مستحکم بنیاد یہ ہے کہ وہ اتباع سنت اور اجتناب بدعت کو اپنا وطیرہ بناتے ہیں۔ 

عرباض بن ساریہ  رضی اللہ عنہ   سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   نے ہم کو صلاة فجر پڑھائی،پھر ہم کو ایک بلیغ نصیحت فرمائی جس سے آنکھیں بہہ پڑیں اور دل دہل گئے۔ کسی نے کہا : اے اللہ کے رسول !گویا یہ رخصت کرنے والے کی نصیحت ہے لہذا آپ ہمیں وصیت فرمایئے۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

«أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللهِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَإِنْ كَانَ عَبْدًا حَبَشِيًّا، فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ بَعْدِي يَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، تَمَسَّكُوا بِهَا،وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ، فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَإِنَّ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ» (رواه أحمد وأبوداود والترمذي)

«میں تمھیں الله  کے تقوی اور سمع وطاعت کی وصیت کرتا ہوں اگرچہ حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ تم میں سے جومیرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت سارا اختلاف دیکھے گا، لہذا تم میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو، اسے مضبوطی کے ساتھ تھام لو، اسے دانتوں سے مضبوط جکڑلو، اور اپنے آپ کو نئی ایجادشدہ چیزوں سے بچاؤ،اس لئے کہ ہر ایجاد شدہ چیز بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے»۔

q فرقۂ ناجیہ کے منہج کی آٹھویں مستحکم بنیاد یہ ہے کہ وہ  مسلمانوں کے اتحاد واتفاق کے حریص ہوتے ہیں کیونکہ فرقہ بندی وہ بدترین عمل ہے جس سے کتاب وسنت میں بار بار منع کیا گیا ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

ﵟوَٱعۡتَصِمُواْ بِحَبۡلِ ٱللَّهِ جَمِيعٗا وَلَا تَفَرَّقُواْۚﵞ [آل عمران: 103] 

(سب لوگ مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور فرقہ بندی نہ کرو)

نیز ارشاد ہے:

ﵟوَلَا تَكُونُواْ كَٱلَّذِينَ تَفَرَّقُواْ وَٱخۡتَلَفُواْ مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ ٱلۡبَيِّنَٰتُۚ وَأُوْلَٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيمٞﵞ [آل عمران: 105] 

(تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنھوں نےاپنے پاس  روشن دلیلیں آجانے کے بعد بھی تفرقہ ڈالا اور اختلاف کیا، انھیں لوگوں کے لئے بڑا عذاب ہے)۔

          ٍصحیح مسلم میں ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: اللہ تعالی تمھارے لئے تین باتوں کو پسند کرتا ہے اور تین باتوں کو ناپسند کرتا ہے: اللہ تعالی تمھارے لئے یہ پسند کرتا ہے کہ تم صرف اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کچھ بھی شرک نہ کرو،  اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھام لو اور فرقہ بندی نہ کرو، اور یہ کہ تم اس شخص کے ساتھ ناصحانہ اور ہمدردانہ رویہ اختیار کرو جس کو اللہ نے تمھارے امور کا والی اور ذمہ دار بنایا ہے۔۔۔

          مسلمانوں کے اتحاد واتفاق، آپسی محبت وہمدردی اور باہمی تعاون وبھائی چارگی کو حدیث میں ایک زبردست مثال کے ذریعہ سمجھایا گیا ہے۔

          عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ, إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى». (رواه البخاري ومسلم)

«باہمی محبت وشفقت اور رحمدلی میں مومنوں کی مثال ایک جسم کی سی ہے, اگر ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو سارا بدن بخار اور بیداری کے ساتھ تڑپ جاتا ہے»۔

اہل سنت وجماعت کے افراد اجتہادی مسائل میں بعض اختلافات کے باوجود آپس میں  ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، ایک دوسرے کے پیچھے صلاۃ ادا کرتے ہیں۔ آپس میں بغض وعداوت نہیں رکھتے، نہ تفرقہ بازی اور گروپ بندی کرتے ہیں اور نہ ہی تکفیر وتضلیل کرتے ہیں، اہل سنت کا ماننا ہے کہ اجتہادی مسائل کی بناپر گروپ بندی کرنا  اہل بدعت کا طریقہ ہے۔

هذا والله أعلم وصلى الله على نبينا وسلم

اعداد :   عبد الہادی عبد الخالق مدنی