الاثنين، 19 يناير 2026

 

 

يوم الجمعة أهميته وفضله

جمعہ کے دن کی اہمیت وفضیلت

                                                الحمد لله والصلاۃ والسلام علی رسول الله وعلی آلہ وصحبہ ومن اہتدی بہداہ، أما بعد!

          اﷲ عزوجل نے بعض مقامات کو بعض پر اور بعض اوقات کو بعض پرامتیاز اور فضیلت عطا فرمائی ہے، چنانچہ مہینوں میں ماہ رمضان کو اور دنوں میں یوم عرفہ، یوم عید الفطر وعید الأضحی اور یوم جمعہ کو فضیلت بخشی ہے۔ اسلام کے اندر جمعہ کے دن کو ایک بڑا مقام اور عظیم قدر ومنزلت حاصل ہے ۔ بہت سی صحیح احادیث اس بات پر دال ہیں کہ جمعہ کا دن دوسرے دنوں کے مقابلے میں بہت سی امتیازی خصوصیات کا حامل ہے جن میں سے چند حسب ذیل ہیں:

          ۱۔ یوم جمعہ تمام دنوں کا سردار ہے: نبی ﷺ کا ارشاد ہے: ’’یقینا جمعہ کا دن تمام دنوں کا سردار ہے اور اﷲ کے نزدیک سب سے زیادہ عظمت والا ہے ، وہ اﷲ کے نزدیک عید الفطر اور عید الأضحی سے بھی زیادہ عظیم ہے‘‘۔ (صحیح ابن ماجہ) نیز ارشاد ہے: ’’سب سے بہترین دن جس پر سورج طلوع ہوا جمعہ کا دن ہے ، اسی دن آدم علیہ السلام پیدا کئے گئے اور اسی دن جنت میں داخل کئے گئے اور اسی دن جنت سے نکالے گئے‘‘۔ (صحیح مسلم)

          ۲۔ یہ مسلمانوں کی عید کا دن ہے۔ اگر اسی دن عید الفطر یا عیدالأضحی آجائے تو اس دن دوعیدیں اکٹھا ہوجاتی ہیں اسی وجہ سے جو صلاۃ عید پڑھ لے اس کے لئے صلاۃ جمعہ کی حاضری واجب نہیں رہتی بلکہ اس کی رخصت ہوتی ہے۔عبد اﷲ بن عباس رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے کہ آپ نے (الیوم أکملت لکم دینکم ) کی تلاوت فرمائی ، آپ کے پاس بیٹھے ایک یہودی نے کہا: اگر یہ آیت ہم پر نازل ہوئی ہوتی توہم اس کو عید بنالیتے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ آیت اکٹھا دو عید والے دن میں نازل ہوئی ہے جمعہ کے دن میں جب کہ عرفہ کا دن تھا(صحیح ترمذی)

          ۳۔ یہ گناہوں کی معافی اور برائیوں کی بخشش کا دن ہے۔ نبی ﷺ کا ارشاد ہے: ’’ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک کے گناہوں کا کفارہ ہے بشرطیکہ کبیرہ گناہ نہ کئے گئے ہوں (صحیح ابن ماجہ) نیز نبی ﷺ فرماتے ہیں : جس نے غسل کیا پھر جمعہ کو آیا اور جتنا مقدر میں تھا صلاۃ پڑھی پھر امام کے خطبہ سے فارغ ہونے تک خاموش رہا پھر اس کے ساتھ صلاۃ جمعہ ادا کی تو اس کے لئے اس جمعہ سے دوسرے جمعہ تک اور مزید تین دنوں کی بخشش کردی جاتی ہے‘‘۔ (صحیح مسلم)

          ۴۔ جمعہ کے دن پیدل جانے والے کے لئے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے صیام وقیام کا ثواب ہوتا ہے۔ رسول اﷲ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’جس نے جمعہ کے دن غسل کیا ، اپنا سر دھویا ،اول وقت میں گیا، خطبہ شروع سے پایا، (امام سے) قریب بیٹھا،خطبہ غور سے سنا او ر خاموش رہا ، اس کے لئے ہر ہر قدم کے بدلے ایک سال کے صیام وقیام کا ثواب ہوتا ہے‘‘۔ (صحیح ترمذی وصحیح نسائی)

          ۵۔ جمعہ کے دن ایک ساعت ایسی ہوتی ہے جس میں دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’جمعہ کے دن ایک ساعت ایسی ہے جسے کوئی مسلمان اﷲ سے خیر طلب کرتے ہوئے پاجائے تو اﷲ تعالی اسے عطا فرماتا ہے‘‘۔ راوی کا کہنا ہے کہ وہ بہت مختصر وقت ہے (متفق علیہ)

جمہور اہل علم کا خیال ہے کہ وہ ساعت جس میں دعاؤں کی قبولیت کی امید ہوتی ہے صلاۃ عصر کے بعد ہے ، نیز سورج ڈھلنے کے وقت بھی امید ظاہر کی گئی ہے۔ ہر مسلمان کو چاہئے کہ اس گھڑی میں اپنے لئے اور اپنے مسلمان بھائیوں کے لئے زیادہ سے زیادہ دعائیں کرے۔

          ۶۔ اﷲ تعالی نے  امت مسلمہ کے لئے جمعہ کے دن کو ذخیرہ بنایااور اس سے اہل کتاب کو گمراہ کردیا۔ اﷲ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے : ’’اﷲ تعالیٰ نے ہم سے پہلے کی امتوں کو جمعہ سے گمراہ کردیا، یہود کے لئے سنیچر اور نصاریٰ کے لئے اتوار کا دن تھا اور اﷲ نے ہمیں پیدا کیا تو جمعہ کے دن کی ہدایت نصیب فرمائی۔ چنانچہ جمعہ ہے پھر سنیچر اور اتوار ہے ۔اسی طرح وہ لوگ قیامت کے دن بھی ہمارے پیچھے رہیں گے ۔ ہم دنیا میں سب سے بعد میں آئے  اور قیامت میں تمام مخلوقات سے پہلے ہمارا فیصلہ ہوگا‘‘۔(متفق علیہ)

          ۷۔ قیامت جمعہ کے دن ہی قائم ہوگی۔ رسول اﷲ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’قیامت جمعہ کے دن ہی قائم ہوگی‘‘۔ (صحیح مسلم)

          ۸۔ جمعہ کے دن کی موت حسن خاتمہ کی علامت ہے۔ رسول اﷲ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’جس مسلمان کی موت جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات میں ہوتی ہے اﷲ تعالی اسے قبر کے فتنہ سے محفوظ رکھتا ہے‘‘۔ (احمد و صحیح ترمذی) حدیث میں مذکور فضیلت اسی شخص کو حاصل ہوگی جو ظاہر ی طور پر بھی نیک اور پابند شریعت ہو۔

          ۹۔ صلاۃ جمعہ چھوڑدینا بہت بڑا گناہ ہے نبی ﷺ نے اس کے چھوڑنے پر سخت تنبیہ فرمائی ہے۔ آپ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’کچھ لوگ جمعہ چھوڑنے سے ضرور باز آجائیں یا پھر اﷲ تعالی ان کے دلوں پر مہر لگادے گا پھر وہ بلا شبہ غافلوں میں سے ہوجائیں گے‘‘۔ (صحیح مسلم) نیز فرمایا: ’’جس شخص نے تین جمعے معمولی سمجھ کے چھوڑدیئے اﷲ اس کے دل پر مہر لگادے گا۔‘‘ (صحیح ترمذی ونسائی وابوداؤد) نیز فرمایا: ’’میں نے ارادہ کیا کہ ایک شخص کو لوگوں کی صلاۃ کی امامت کا حکم دوں پھر ان لوگوں کے گھروں کو آگ لگادوں جو جمعہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔‘‘ (صحیح مسلم)

          واضح رہے کہ یہ حدیثیں جمعہ کی اہمیت کی تاکید کررہی ہیں ، اس کا یہ مفہوم قطعاً نہیں ہے کہ صرف صلاۃ جمعہ ہی فرض ہے بلکہ ہر مسلمان پر صلاۃ جمعہ کے ساتھ ساتھ پنجوقتہ صلاتیں بھی باجماعت فرض ہیں۔

هذا والله أعلم وصلى الله على نبينا وسلم

اعداد :   عبد الہادی عبد الخالق مدنی