الاثنين، 19 يناير 2026

 

 

أخلاق الداعية (1)

داعی کے اخلاق واوصاف (1)

داعی کو کن اخلاق واوصاف کا حامل ہونا چاہئے ، کتاب وسنت کے اندر متعدد مقامات میں ان کا بیان آیا ہوا ہے۔ چند صفات کا ہم ذکر کرتے ہیں۔

Œاخلاص

داعی کی سب سے اہم صفت اخلاص ہے۔ اسے اپنے ہر عمل سے اللہ کی رضا مقصود ہونا چاہئے۔ ریا ونمود، شہرت، لوگوں کی واہ واہی، مال ودولت اور جاہ ومنصب کا حصول ہرگز نہیں مقصود ہونا چاہئے۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید کے اندر متعدد  انبیاء کرام سے متعلق  یہ ذکر کیا ہے کہ انھوں نے  اپنی قوم سے کہا:

ﵟوَمَآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٍۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَﵞ [الشعراء: 109] 

(ترجمہ: میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں چاہتا، میرا بدلہ تو صرف رب العالمین کے ہاں ہے)۔

علم وبصیرت

داعی کی دوسری اہم صفت علم اور بصیرت ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

ﵟقُلۡ هَٰذِهِۦ سَبِيلِيٓ أَدۡعُوٓاْ إِلَى ٱللَّهِۚ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا۠ وَمَنِ ٱتَّبَعَنِيۖ وَسُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ وَمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَﵞ [يوسف: 108] 

(ترجمہ:آپ کہہ دیجئے میری راہ یہی ہے ۔ میں اور میرے متبعین اللہ کی طرف بلارہے ہیں پوری بصیرت کے ساتھ، اور اللہ پاک ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں)۔

بصیرت ایک ایسا جامع لفظ ہے جو علم وحکمت دونوں کو شامل ہے۔ علم وحکمت کی ضد جہالت وسفاہت ہے۔ ظاہر ہے کہ علم وحکمت کے بغیر جہالت وسفاہت کے ساتھ پیش کی جانے والی دعوت اصلاح کے بجائے فساد اور تعمیر کے بجائے تخریب کا باعث ہوگی۔

بصیرت اس علم ویقین کا نام ہے جو شرعی وعقلی دلائل وبراہین کی بنیاد پر قائم ہو۔ واقعہ یہ ہے کہ بصیرت دل کو نور عطا کرتا ہے۔ جس طرح خشک زمین کو پانی اور آنکھوں کو روشنی کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح قلب کو بصیرت کی حاجت ہوتی ہے۔ علم وبصیرت کے ذریعہ ہی حق وباطل میں تمیز اور صحیح وغلط کی پہچان ہوتی ہے۔ لہذا داعی کو چاہئے کہ وہ کتاب وسنت کا خالص علم حاصل کرے اور جو علم اسے دوسری راہ سے ملا ہو اسے لازمی طور پر کتاب اللہ اور سنت صحیحہ پر پیش کرے اگر ان کے موافق ہے تو قبول کرے ورنہ رد کردے۔ یہی علم وبصیرت کا تقاضا ہے۔

داعی کے لئے تین باتوں میں بصیرت بہت اہم ہے۔

j۔ اپنی دعوت میں بصیرت۔ داعی جس چیز کو واجب یا حرام قرار دے رہا ہو یقینی دلائل سے اس کا واجب یا حرام ہونا اسے معلوم ہو۔

k۔ مدعو کے حالات میں بصیرت۔ داعی کو چاہئے کہ جس شخص یا جس قوم کو دعوت پیش کرنے جارہا ہے ان کے تعلیمی وثقافتی نیز ذہنی وعقلی معیار کا علم رکھے اور اسی کے مطابق ان سے گفتگو کرے۔

l۔ طریقۂ دعوت میں بصیرت۔ داعی اپنی دعوت کو حکمت، موعظت حسنہ اور جدال احسن کے ذریعہ پیش کرے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں اس کی جانب رہنمائی کی گئی ہے۔

Žصداقت (سچائی)

داعی کی ایک اہم صفت صداقت بھی ہے۔  داعی اپنے قول میں بھی صادق ہو اور اپنے عمل میں بھی، قول کی صداقت یہ ہے کہ ہمیشہ سچی بات کہے اور کبھی کوئی ناحق اور جھوٹی بات نہ کہے اور عمل کی صداقت یہ ہے کہ اپنی دعوت کے مطابق عمل پیرا ہو۔

شریعت کے مطابق عمل خود ایک خاموش دعوت ہے لیکن جو شخص زبان سے دعوت پیش کررہا ہے اس کے لئے انتہائی ضروری ہے کہ وہ جس بات کی دعوت دے رہا ہے اس پر خود بھی عامل ہو، ایسا نہ ہو جیسا کہ یہودیوں کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا:

ﵟأَتَأۡمُرُونَ ٱلنَّاسَ بِٱلۡبِرِّ وَتَنسَوۡنَ أَنفُسَكُمۡ وَأَنتُمۡ تَتۡلُونَ ٱلۡكِتَٰبَۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَﵞ [البقرة: 44] 

(ترجمہ: کیا لوگوں کو بھلائیوں کا حکم کرتے ہو اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو باوجودیکہ تم کتاب پڑھتے ہو ، کیا اتنی بھی تم میں سمجھ نہیں؟)۔

نیز اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

ﵟيَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفۡعَلُونَ 2 كَبُرَ مَقۡتًا عِندَ ٱللَّهِ أَن تَقُولُواْ مَا لَا تَفۡعَلُونَﵞ [الصف: 2-3] 

(ترجمہ:اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ۔ تم جو کرتے نہیں اس کا کہنا اللہ تعالی کو سخت نا پسند ہے)۔

نیز حدیث میں ہے:  عن أسامة  رضی اللہ عنہ  قال قال رسول الله r : يُجَاءُ بِالرَّجُلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُلْقَى فِي النَّارِ فَتَنْدَلِقُ أَقْتَابُهُ فِي النَّارِ فَيَدُورُ كَمَا يَدُورُ الْحِمَارُ بِرَحَاهُ فَيَجْتَمِعُ أَهْلُ النَّارِ عَلَيْهِ فَيَقُولُونَ أَيْ فُلَانُ مَا شَأْنُكَ أَلَيْسَ كُنْتَ تَأْمُرُنَا بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَانَا عَنْ الْمُنْكَرِ قَالَ كُنْتُ آمُرُكُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا آتِيهِ وَأَنْهَاكُمْ عَنْ الْمُنْكَرِ وَآتِيهِ. (رواه البخاري ومسلم)

اسامہ  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: ایک آدمی کو بروز قیامت لایاجائے گا اور جہنم میں ڈال دیاجائے گا ، آگ میں اس کی انتڑیاں باہر نکل آئیں گی اور وہ اس طرح چکر لگائے گا جیسے گدہا اپنی چکی کے ارد گرد گردش کرتا ہے۔جہنمی اس کے آس پاس اکٹھے ہوجائیں گے اور کہیں گے : اے فلاں! تمھاری یہ حالت کیوں ہے؟ کیا تم ہمیں بھلائی کا حکم نہیں دیتے تھے اور برائی سے روکتے نہیں تھے؟؟ وہ کہے گا: میں تمھیں بھلائی کا حکم دیتا تھا لیکن خود بھلائی نہیں کرتا تھا اور میں تمھیں برائیوں سے روکتا تھا لیکن خود برائی کیا کرتا تھا۔  (بخاری ومسلم)

صداقت اور سچائی کی ضد جھوٹ ہے ۔ داعی کبھی جھوٹا نہیں ہوسکتا کیونکہ جھوٹ نفاق کی بنیاد ہے نیز جھوٹ برائیوں کا راستہ دکھاتا ہے۔ جھوٹ کا اثر انسان کے چہرے اور اس کی آواز میں ظاہر ہوتا ہے، جھوٹے کی زبان سے تاثیر ختم ہوجاتی ہے۔

هذا والله أعلم وصلى الله على نبينا وسلم

اعداد :   عبد الہادی عبد الخالق مدنی