الفرقة الناجية
فرقہ نا جیہ
اللہ تعالی نے تمام مسلمانوں کو قرآن مجید کو مضبوطی سے
تھامنے کا حکم دیا ہے اور فرقہ بندی سے منع فرمایا ہے، ارشاد ہے: ﵟوَٱعۡتَصِمُواْ بِحَبۡلِ ٱللَّهِ جَمِيعٗا وَلَا تَفَرَّقُواْۚ ﵞ [آل عمران: 103]
نیز رسول اکرم صلی
اللہ علیہ وسلم نے یہ خبردی ہے کہ سابقہ
امتیں یہود ونصاری فرقہ بندی کا شکار ہوگئیں
ساتھ ہی یہ پیشین گوئی بھی فرمائی کہ امت مسلمہ ان امتوں کی روش اپناکر
فرقہ بندی میں مبتلا ہوگی اور صرف مبتلا ہی نہیں بلکہ ان سے ایک قدم آگے بڑھ جائے
گی، سابقہ امتیں بہتر فرقوں میں تقسیم ہوئی تھیں ، یہ امت تہتر فرقوں میں تقسیم
ہوجائے گی، ایک فرقہ کے سوا سب کے سب صراط مستقیم سے انحراف، کتاب وسنت سے
روگردانی اور اصل شریعت سے پہلوتہی کی بنا
پر جہنم میں جائیں گے، صرف ایک ہی فرقہ جنت میں جائے گا جس نے جماعت سے خروج نہ
کیا ہوگا، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور آپ کے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے طریق کو مضبوطی سے تھاما ہوگا۔
وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إِنَّ أَهْلَ
الْكِتَابَيْنِ افْتَرَقُوا فِي دِينِهِمْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، وَإِنَّ
هَذِهِ الْأُمَّةَ سَتَفْتَرِقُ عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً - يَعْنِي: الْأَهْوَاءَ
-، كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا وَاحِدَةً، وَهِيَ الْجَمَاعَةُ ». (رواه أحمد و غيره و حسنه الحافظ)
و في رواية : «كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا مِلَّةً وَاحِدَةً, قَالُوا: وَمَنْ هِيَ
يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي». (رواه الترمذي و حسنه الألباني في صحيح الجامع).
متعین طور پر یہ کہنے
کے لئے کہ فلاں فرقہ نجات یافتہ ہے اور فلاں اور فلاں فرقے جہنمی ہیں دلیل کی
ضرورت ہے کیونکہ دلیل کے بغیر کوئی بات کہنا اللہ کے دین میں سخت منع ہے، اللہ
تعالی کا ارشاد ہے:
ﵟقُلۡ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ ٱلۡفَوَٰحِشَ مَا ظَهَرَ مِنۡهَا وَمَا بَطَنَ وَٱلۡإِثۡمَ وَٱلۡبَغۡيَ بِغَيۡرِ ٱلۡحَقِّ وَأَن تُشۡرِكُواْ بِٱللَّهِ مَا لَمۡ يُنَزِّلۡ بِهِۦ سُلۡطَٰنٗا وَأَن تَقُولُواْ عَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعۡلَمُونَﵞ [الأعراف: 33]
(آپ فرمایئے کہ میرے رب نے تو بے حیائی کی باتوں کو، ظاہر
ہوں یا پوشیدہ ،اور گناہ کو، اور ناحق زیادتی کرنے کو حرام کیا ہے، اور اس کو بھی
کہ تم کسی کو اللہ کا شریک بناؤ جس کی اُس نے کوئی سند نازل نہیں کی، اور اس کو
بھی کہ اللہ کے بارے میں ایسی باتیں کہو جن کا تمہیں کچھ علم نہیں ۔)
نیز ارشاد ہے:
ﵟوَلَا تَقۡفُ مَا لَيۡسَ لَكَ بِهِۦ عِلۡمٌۚ إِنَّ ٱلسَّمۡعَ وَٱلۡبَصَرَ وَٱلۡفُؤَادَ كُلُّ أُوْلَٰٓئِكَ كَانَ عَنۡهُ مَسۡـُٔولٗاﵞ [الإسراء: 36]
(اس بات کے پیچھے مت پڑو جس کا تمھیں علم
نہیں کیونکہ آنکھ اور کان اور دل ان میں سے ہر ایک سے پوچھ گچھ کی جانے والی ہے)۔
اکثر فرقوں کا یہ دعوی ہے کہ وہ نجات یافتہ
ہیں اور ان کے مخالفین غیرنجات یافتہ ہیں۔ آیئے ہم دلیل کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ وہ فرقہ کون سا ہے تاکہ اپنے آپ کو اس سے
جوڑ کر نجات حاصل کریں اور ہلاکت وتباہی سے محفوظ رہیں۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا
ارشاد ہے: «إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرَّقَتْ
عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً, وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ
مِلَّةً, كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا مِلَّةً وَاحِدَةً, قَالُوا: وَمَنْ هِيَ يَا
رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي». (رواه الترمذي و حسنه الألباني في صحيح الجامع). بنو اسرائیل بہتر فرقوں
میں تقسیم ہوگئے، میری
امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہوگی،سب
کے سب جہنم میں جائیں گے سوائے ایک کے، صحابۂ کرام نے دریافت کیا:
اے اللہ کے رسول! وہ نجات یافتہ فرقہ کون سا ہوگا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي» (جس راہ پر میں ہوں اور
میرے صحابہ ہیں ) یہ سنن ترمذی کی حسن
درجہ کی حدیث ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نام بتانے کے بجائے وصف ذکر فرمایا
کیونکہ نجات کے معاملہ میں وصف وکردارہی کی اصل اہمیت ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول سے یہ بات عیاں اور بیاں ہوجاتی ہے کہ
فرقۂ ناجیہ وہ فرقہ ہوگا جو اپنے قول وعمل میں، ایمان واعتقاد میں، اخلاق ومعاملات
میں غرضیکہ دین وشریعت کے تمام امور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے منہج پر کاربند ہوگا۔ یہ
فرقہ ہرطرح کے زیغ وضلال سے محفوظ اور سلامت رہے گا۔
یاد رہے کہ تہتر
فرقوں میں صرف یہی ایک فرقہ "ناجیہ" ہےیعنی صرف اسے ہی جہنم سے نجات
ملنے والی ہے جیساکہ ارشاد نبوی ہے: «كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا وَاحِدَةً». (رواه أحمد و غيره و حسنه الحافظ)
یہی وہ فرقہ ہے جو
کتاب وسنت اور صحابۂ کرام وسلف صالحین کی روش کو مضبوطی سے تھامنے والا ہےکیونکہ
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: «مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي». (رواه الترمذي و حسنه الألباني في صحيح الجامع).
یہی فرقہ اہل سنت
وجماعت ہے، یعنی دو عظیم خصوصیات کا حامل ہے:
پہلی خصوصیت: سنت سے تعلق اور وابستگی
اسی خصوصیت
کی بنا پر فرقۂ ناجیہ کا ایک لقب اہل سنت ہے کیونکہ یہ اپنی زندگی کے تمام امور
میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی سنتوں کا التزام کرتے ہیں،
اپنی عقل اور رائے وقیاس کو کبھی سنت پر مقدم نہیں کرتے، جبکہ دوسرے فرقے اہل بدعت
ہیں، سنت کی طرف ان کی نسبت قطعاً نہیں ہوتی۔ ان بدعتی فرقوں کی نسبت یا تو ان کے قائدین اور
بانیوں کی طرف ہوتی ہےجیسے قادیانی یا جہمی یا پھر ان کی نسبت ان کی بدعت وضلالت
کی طرف ہوتی ہے جیسے قدریہ اور مرجئہ یا پھر ان کی نسبت ان کے افعال قبیحہ کی طرف
ہوتی ہے جیسے رافضہ اور خوارج۔
دوسری خصوصیت: جماعت سے تعلق اور وابستگی
اسی خصوصیت
کی بنا پر فرقۂ ناجیہ کا دوسرا لقب اہل جماعت ہے، یعنی وہ حق پر اکٹھا ہوتے ہیں،
مسلمانوں کی جماعت سے خروج کرکے فرقہ بندی نہیں کرتے۔
فرقۂ ناجیہ ہی وہ فرقہ ہے جسے
اللہ کی مدد اور نصرت حاصل ہے کیونکہ جب اس نے اللہ کے دین کی مدد کی تو اللہ نے
ان کی مدد فرمائی۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
ﵟيَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِن تَنصُرُواْ ٱللَّهَ يَنصُرۡكُمۡ وَيُثَبِّتۡ أَقۡدَامَكُمۡﵞ [محمد: 7]
نیز رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
«لَا يَزَالُ مِنْ أُمَّتِي أُمَّةٌ
قَائِمَةٌ بِأَمْرِ اللَّهِ لَا يَضُرُّهُمْ مَنْ خَذَلَهُمْ وَلَا مَنْ خَالَفَهُمْ
حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ عَلَى ذَلِكَ». (رواه البخاري ومسلم)
میری امت کی ایک جماعت ہمیشہ اللہ کے حکم پر قائم رہے گی، اس کی مخالفت کرنے
والے اور اسے بے سہارا چھوڑنے والے اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے یہاں تک کہ اللہ کا
حکم آجائے اور وہ اسی حال پر رہیں گے۔
هذا
والله أعلم وصلى الله على نبينا وسلم
اعداد : عبد الہادی عبد الخالق مدنی