عمل الداعية هو
البلاغ المبين
داعی کا کام دعوت ہے نہ کہ ہدایت
داعی کو یہ بات ذہن
نشین رکھنی چاہئے کہ اس کا کام فقط دعوت وتبلیغ، ارشاد ورہنمائی اور حق کا ایضاح
وبیان ہے جیساکہ ارشاد ربانی ہے:
ﵟوَمَا عَلَى ٱلرَّسُولِ إِلَّا ٱلۡبَلَٰغُ ٱلۡمُبِينُﵞ [النور:
54]
(ترجمہ: سنو! رسول کے
ذمہ تو صرف صاف طور پر پہنچادینا ہے)۔
سادہ لفظوں میں داعی
کا م اللہ کی بات کو صاف صاف پہنچادینا ہے، اس کو منوانا داعی کا کام نہیں ہے۔
ہدایت کو دل میں اتار
دینا کسی انسان کے بس کی بات نہیں، دلوں کا مالک اللہ ہے، وہی جسے چاہتا ہے راہ
ہدایت کی توفیق دیتا ہے۔ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:
ﵟإِنَّكَ لَا
تَهۡدِي مَنۡ
أَحۡبَبۡتَ وَلَٰكِنَّ
ٱللَّهَ يَهۡدِي
مَن يَشَآءُۚ
وَهُوَ أَعۡلَمُ
بِٱلۡمُهۡتَدِينَﵞ [القصص:
56]
(ترجمہ: آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں کرسکتے بلکہ اللہ تعالی ہی جسے چاہے ہدایت
کرتا ہے ہدایت والوں سے وہی خوب آگاہ ہے)۔
یہ آیت اس وقت نازل
ہوئی جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمدرد اور غمگسار چچا جناب ابوطالب کا انتقال
ہونے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوشش فرمائی کہ چچا جان اپنی زبان سے ایک
مرتبہ لا الہ الا اللہ کہہ دیں تاکہ قیامت والے دن میں اللہ سے ان کی مغفرت کی
سفارش کرسکوں ۔ لیکن وہاں دوسرے رؤسائے قریش کی موجودگی کی وجہ سے ابوطالب قبول
ایمان کی سعادت سے محروم رہےاور کفر پر ہی ان کا خاتمہ ہوگیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا بڑا قلق اور صدمہ تھا۔ اس موقعہ پر
اللہ تعالی نے یہ آیت نازل فرماکر نبی صلی
اللہ علیہ وسلم پر واضح کیا کہ آپ کا کام
صرف تبلیغ ودعوت اور رہنمائی ہے ۔ لیکن ہدایت کے راستے پر چلادینا ، یہ ہمارا کام
ہے۔ ہدایت اسے ہی ملے گی جسے ہم ہدایت سے نوازنا چاہیں نہ کہ اسے جسے آپ ہدایت پر
دیکھنا پسند کریں۔ (صحیح بخاری، تفسیر سورۃ القصص، صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب
اول الایمان)
داعی کو دعوت کا کام
بطور عبادت کرتے رہنا چاہئے، لوگوں کو نیکیوں کا حکم دینے اور برائیوں سے روکنے
میں پیہم لگے رہنا چاہئے خواہ کوئی اس کی بات قبول کرے یا نہ کرے، دعوت دینا داعی
کی ذمہ داری ہے اور دعوت کو قبول کرنا دوسروں کی ذمہ داری ہے ، ہر کسی سے صرف اس کی
ذمہ داری کے بارے میں سوال ہوگا۔ داعی سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ لوگوں نے
تمھاری دعوت کیوں نہیں قبول کی۔ البتہ اگر اس نے دعوت نہیں پہنچائی ، نیکی کا حکم
نہیں دیا اور برائی سے نہیں روکا تو ضرور اس سے سوال ہوگا۔ نوح علیہ السلام اپنی
قوم کو ساڑھے نوسو سال تک دعوت دیتے رہے اس کے باوجود صرف چند لوگ ہی ایمان لائے۔
دیگر انبیائے کرام نے اپنی پوری زندگی
اپنی قوموں کو دعوت دی ، کسی کی پوری قوم ایمان لے آئی، کسی کی قوم کے چند افراد
ایمان لائے اور کسی پر ایک شخص بھی ایمان
نہیں لایا۔
هذا
والله أعلم وصلى الله على نبينا وسلم
اعداد : عبد الہادی عبد الخالق مدنی