الاثنين، 12 يناير 2026

 

 

أساليب الدعوة إلى الله

دعوت الی اللہ  کا اسلوب

قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دعوت کے تین اہم اسلوب ہیں۔ حکمت وموعظت اور جدال احسن۔

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

ﵟٱدۡعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِٱلۡحِكۡمَةِ وَٱلۡمَوۡعِظَةِ ٱلۡحَسَنَةِۖ وَجَٰدِلۡهُم بِٱلَّتِي هِيَ أَحۡسَنُۚﵞ [النحل: 125] 

(ترجمہ: اپنے رب کی راہ کی طرف لوگوں کو حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلائیے اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجئے)۔

مذکورہ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ داعی اپنی دعوت کا آغاز حکمت سے کرے لیکن اگر مدعو کے یہاں سخت دلی اور اعراض کا رویہ محسوس کرے تو موعظت کا طریقہ اپنائے یعنی اسے وہ آیات واحادیث سنائے جن میں وعظ اور ترغیب موجود ہے۔ پھر اگر مدعو کے پاس کچھ شبہات ہیں تو بہترین انداز میں ان کا ازالہ کرے، اسی کا نام جدال احسن ہے۔ مدعو کے ساتھ سخت خوئی کا رویہ نہ اپنائے۔ جلد بازی سے کام نہ لے، صبر کرے، شبہ دور کرنے کی پوری کوشش کرے ، دلائل کو کھول کھول کر بیان کرے۔

البتہ اگر مدعو کا عناد اور ظلم اور اس کی ہٹ دھرمی صاف طور پر سامنے آجائے تو اس پر سختی بھی کی جاسکتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

ﵟيَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ جَٰهِدِ ٱلۡكُفَّارَ وَٱلۡمُنَٰفِقِينَ وَٱغۡلُظۡ عَلَيۡهِمۡۚﵞ [التوبة: 73] 

  (ترجمہ: اے نبی! کافروں اور منافقوں سے جہاد جاری رکھو اور ان پر سخت ہوجاؤ)۔

نیز ارشاد ہے:

ﵟوَلَا تُجَٰدِلُوٓاْ أَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ إِلَّا بِٱلَّتِي هِيَ أَحۡسَنُ إِلَّا ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ مِنۡهُمۡۖﵞ [العنكبوت: 46] 

 (ترجمہ: اور اہل کتاب کے ساتھ بحث ومباحثہ نہ کرو مگر اس طریقہ پر جو عمدہ ہو مگر ان کے ساتھ جو ان میں ظالم ہیں)۔

یعنی جو بحث ومجادلہ میں افراط سے کام لیں تو تمھیں بھی سخت لب ولہجہ اختیار کرنے کی اجازت ہے۔

آئیے ! سطور ذیل میں حکمت وموعظت اور جدال احسن تینوں عنوانات پر الگ الگ مختصر گفتگو کی جائے۔

Œحکمت:

دعوت میں حکمت کا اسلوب بقیہ اسالیب پر مقدم ہے۔ حکمت کا مفہوم  متعین کرنے میں علماء کے متعدد اقوال ہیں۔

۱۔ حکمت سے مراد قرآن ہے کیونکہ قرآن کریم کے اندر حق کا پورا بیان اور اس کی مکمل وضاحت موجود ہے۔

۲۔ حکمت سے مراد کتاب وسنت کے دلائل ہیں۔

۳۔ حکمت سے مراد حق کو واشگاف کردینے والے، باطل کو توڑ دینے والے اور دلوں کو مطمئن کردینے والے واضح اور دوٹوک دلائل وبراہین ہیں۔

۴۔ حکمت سے مراد ہر وہ بات ہے جو حماقت سے محفوظ اور باطل سے دور رکھے۔

در حقیقت حکمت ایک عظیم جامع لفظ ہے جس کے مفہوم میں وہ سارے معانی داخل ہیں جو اوپر بیان کئے گئے۔

حکمت میں یہ بھی داخل ہے کہ پہلے مدعو کی بیماری کی تشخیص کی جائے اور پھر اسے اس کے مناسب حال علاج دیا جائے۔ واضح رہے کہ ساری انسانیت کی اصل بیماری رب کی عدم معرفت، اس کی بندگی سے انکار  اور آخرت فراموشی ہے، اگر ان بیمار جڑوں کا علاج کردیا جائے تو باقی پورا درخت بہ آسانی ہرا بھرا ہوجائے گا۔

حکمت میں یہ بھی داخل ہے کہ دعوت میں ترتیب وتدریج کا خیال رکھاجائے۔ دعوت کا آغاز اہم ترین چیز سے کیا جائے۔ مدعو کےذہن وفہم سے قریب باتوں کو اس کے سامنے رکھا جائے۔

موعظت:

دعوت میں موعظت کا اسلوب دوسرے نمبر پر  ہے۔ موعظت کا مفہوم  یہ ہے کہ مدعو سے ایسی باتیں کہی جائیں جو اس کے دل میں حق کو قبول کرنے کا شوق پیدا کریں اور حق کو قبول نہ کرنے کے انجام سے خوف زدہ کریں۔اسی کو ترغیب وترہیب بھی کہاجاتا ہے۔ قرآن وسنت میں اس کی بے شمار مثالیں ہیں، ہم صرف  ایک مثال پر اکتفا کرتے ہیں۔

اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

ﵟإِنَّ ٱللَّهَ يُدۡخِلُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ جَنَّٰتٖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُۖ وَٱلَّذِينَ كَفَرُواْ يَتَمَتَّعُونَ وَيَأۡكُلُونَ كَمَا تَأۡكُلُ ٱلۡأَنۡعَٰمُ وَٱلنَّارُ مَثۡوٗى لَّهُمۡﵞ [محمد: 12] 

 (ترجمہ: جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کئے انھیں اللہ تعالی یقینا ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں اور جو لوگ کافر ہوئے وہ (دنیا ہی کا) فائدہ اٹھارہے ہیں اور مثل چوپایوں کے کھارہے ہیں ، ان کا (اصل) ٹھکانہ جہنم ہے۔

ترغیب میں اصل یہ ہے کہ آخرت کا بھرپور ثواب، اللہ کی رضا اور اس کی رحمت ملنے کی بات کہی جائے۔ لیکن دنیاوی فوائد کا ذکر کرنا بھی جائز ہے جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

ﵟفَقُلۡتُ ٱسۡتَغۡفِرُواْ رَبَّكُمۡ إِنَّهُۥ كَانَ غَفَّارٗا * يُرۡسِلِ ٱلسَّمَآءَ عَلَيۡكُم مِّدۡرَارٗا * وَيُمۡدِدۡكُم بِأَمۡوَٰلٖ وَبَنِينَ وَيَجۡعَل لَّكُمۡ جَنَّٰتٖ وَيَجۡعَل لَّكُمۡ أَنۡهَٰرٗا  [نوح: 10-12] 

(ترجمہ: اور میں نے (یعنی نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے) کہا کہ اپنے رب سے اپنے گناہوں کی مغفرت (اور بخشش) طلب کرو (اور معافی مانگو) وہ یقینا بڑا بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان کو خوب برستا ہوا چھوڑدے گا۔اور تمھیں خوب پے درپے مال اور اولاد میں ترقی دے گااور تمھیں باغات دے گا اور تمھارے لئے نہریں نکال دے گا)۔

اور ترہیب میں اصل یہ ہے کہ آخرت کے عذاب اور اللہ کے غضب سے ڈرایا جائے لیکن دنیاوی نقصانات کا ذکر کرنا جائز ہے۔

Žجدال احسن:

دعوت میں جدال احسن کا اسلوب تیسرے نمبر پر  ہے۔ جدال احسن کا مفہوم  یہ ہے کہ مدعو  اگر اپنی راہ کو برحق سمجھ رہا ہے یا وہ کسی باطل کا داعی ہے تو اس سے بہترین انداز میں نرمی وخوش اخلاقی اور کشادہ دلی کے ساتھ بحث ومباحثہ کیا جائے۔ واضح دلائل کے ساتھ اسلام کی حقانیت اور اس کے خلاف دیگر تمام راستوں کا بطلان ثابت کیا جائے۔اچھے انداز میں شبہات کا ازالہ کیا جائے۔ گالی گلوج اور تہمت تراشی سے پرہیز کیا جائے۔ مخالف کو زیر کرنا مقصود ہونے کے بجائے اسے حق پر لانا مقصود ہو۔

اگر مدعو تمام طریقے اپنانے کے باوجود اپنی باطل پر اڑا رہے تو اس کے ساتھ بحث ومباحثہ بند کردینا چاہئے۔ کیونکہ بعض لوگ بحث کے ذریعہ حق تک پہنچنا نہیں چاہتے بلکہ اپنی ہٹ دھرمی اور کٹ حجتی کے ذریعہ اپنے باطل پر جمے رہنا چاہتے ہیں۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

ﵟيَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ قَدۡ جَآءَكُمُ ٱلۡحَقُّ مِن رَّبِّكُمۡۖ فَمَنِ ٱهۡتَدَىٰ فَإِنَّمَا يَهۡتَدِي لِنَفۡسِهِۦۖ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيۡهَاۖ وَمَآ أَنَا۠ عَلَيۡكُم بِوَكِيلٖﵞ [يونس: 108] 

  ترجمہ: آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو! تمھارے پاس حق تمھارے رب کی طرف سے پہنچ چکا ہے، اس لئے جو شخص راہ راست پر آجائے سو وہ اپنے واسطے راہ راست پر آئے گا اور جو شخص گمراہ رہے گا تو اس کا گمراہ ہونا اسی پر پڑے گا ، اور میں تم پر مسلط نہیں کیا گیا۔

هذا والله أعلم وصلى الله على نبينا وسلم

اعداد :   عبد الہادی عبد الخالق مدنی