الخميس، 8 يناير 2026

 

 

فضل الدعوة إلى الله

دعوت الی اللہ  کے فضائل

دعوت کی فضیلت میں بکثرت آیات واحادیث موجود ہیں۔ آیئے ہم چند فضائل پر نظر ڈالتے ہیں۔

j۔ داعی کی بات سے بہتر کسی کی بات نہیں۔

اللہ تعالی فرماتا ہے:

ﵟوَمَنۡ أَحۡسَنُ قَوۡلٗا مِّمَّن دَعَآ إِلَى ٱللَّهِ وَعَمِلَ صَٰلِحٗا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ ٱلۡمُسۡلِمِينَﵞ [فصلت: 33] 

(ترجمہ:اور اس سے زیادہ اچھی بات والا کون ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک کام کرے اور کہے کہ میں یقینا مسلمانوں میں سے ہوں)۔

k۔ داعی کے لئے بے شمار اجر وثواب ہے۔

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  فرماتے ہیں: (( مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أجْرِ فَاعِلِهِ )) رواه مسلم. ترجمہ:  جس نے کسی خیر کی رہنمائی کی تو اس کے لئے خیر کا عمل کرنے والے کی طرح اجروثواب ہے۔

نیز رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  فرماتے ہیں: (( مَنْ دَعَا إِلَى هُدىً كَانَ لَهُ مِنَ الأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ تَبِعَهُ لاَ يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئاً )) . رواه مسلم . ترجمہ: جس نے راہ ہدایت کی دعوت دی تو اس کے لئے اس کی اتباع کرنے والوں کے اجر کی طرح اجروثواب ہے اور اس سے اتباع کرنے والوں کے اجر وثواب میں کوئی کمی بھی نہیں ہوگی۔

نیز رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے غزوۂ خیبر کے موقع پر علی  رضی اللہ عنہ   سے مخاطب کرکے فرمایا : (( فَوَاللهِ لأَنْ يَهْدِيَ اللّٰهُ بِكَ رَجُلاً وَاحِداً خَيْرٌ لَكَ مِنْ أنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ )) . متفقٌ عَلَيْهِ. ترجمہ:اللہ کی قسم! اللہ تعالی تمھارے ذریعہ ایک آدمی کو ہدایت دے دے یہ تمھارے لئے سرخ اونٹوں کا مالک ہونے سے  بہتر ہے۔

l۔ دعوت ہی کی بنا پر یہ امت خیر امت کے لقب سے سرفراز ہوئی۔

ارشاد ربانی ہے:

ﵟكُنتُمۡ خَيۡرَ أُمَّةٍ أُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَأۡمُرُونَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَتَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَتُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِۗﵞ [آل عمران: 110] 

 (ترجمہ: تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے پیدا کی گئی ہے کہ تم نیک باتوں کا حکم کرتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہواور اللہ تعالی پر ایمان رکھتے ہو )۔

m۔ دعوت کی مشقت اٹھانے والا ضرور کامیاب ہوگا۔

اللہ تعالی فرماتا ہے:

ﵟوَلۡتَكُن مِّنكُمۡ أُمَّةٞ يَدۡعُونَ إِلَى ٱلۡخَيۡرِ وَيَأۡمُرُونَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِۚ وَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَﵞ [آل عمران: 104] 

(ترجمہ: تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہئے جو بھلائی کی طرف بلائے اور نیک کاموں کا حکم کرے اور برے کاموں سے روکے اور یہی لوگ فلاح ونجات پانے والے ہیں)۔

هذا والله أعلم وصلى الله على نبينا وسلم

اعداد :   عبد الہادی عبد الخالق مدنی