موضوع الدعوة
إلى الله
دعوت کا مضمون
ہماری دعوت کس بات کی
ہوگی؟ اس کا جواب ہم قرآن مجید سے معلوم کرتے ہیں۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
ﵟٱدۡعُ إِلَىٰ
سَبِيلِ رَبِّكَ
بِٱلۡحِكۡمَةِ وَٱلۡمَوۡعِظَةِ
ٱلۡحَسَنَةِۖ وَجَٰدِلۡهُم
بِٱلَّتِي هِيَ
أَحۡسَنُۚﵞ [النحل:
125]
(ترجمہ: اپنے رب کے راستہ کی طرف لوگوں کو حکمت اور بہترین نصیحت کے ساتھ بلائیے اور
ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجئے)۔
آیت سے معلوم ہوتا ہے
کہ ہماری دعوت رب کے راستہ کی طرف ہوگی ، کسی اور طرف ہماری دعوت نہیں ہوگی، اور
اگر کسی اور طرف ہماری دعوت ہوئی تو وہ صحیح منزل پر پہنچانے کے بجائے ضلالت کے
گڑھے میں گرا دے گی۔
رب کا راستہ کیا ہے؟ رب کا راستہ اسلام ہے،
رب کا راستہ صراط مستقیم ہے، رب کا راستہ وہ دین ہے جسے دے کر اللہ تعالی نے اپنے
رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا تھا۔ رب کا راستہ وہ ہے جس پر
قرآن مجید اور احادیث صحیحہ کے دلائل موجود ہیں۔
· توحید سب سے پہلے
رب کے راستہ میں سر فہرست صحیح عقیدہ،
اخلاص اور توحید عبادت ہے۔ جیساکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
ﵟقُلۡ إِنَّمَآ
أُمِرۡتُ أَنۡ
أَعۡبُدَ ٱللَّهَ
وَلَآ أُشۡرِكَ
بِهِۦٓۚ إِلَيۡهِ
أَدۡعُواْ وَإِلَيۡهِ
مَـَٔابِﵞ [الرعد: 36]
(ترجمہ: آپ اعلان کردیجئے کہ مجھے تو صرف یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت
کروں اور اس کے ساتھ شریک نہ کروں ، میں اسی کی طرف بلارہا ہوں اور اسی کی جانب
میرا لوٹنا ہے)۔
دعوت کی اساس یہی توحید ہے۔ سارے انبیاء نے توحید سے اپنی دعوت کا آغاز کیا، بلا
اختلاف یہی تمام انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کا منہج رہا ہے۔
محمد صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تیرہ سال تک لوگوں کو توحید کی دعوت
دیتے رہے اور انھیں شرک سے روکتے رہے۔ صلاۃ و زکاۃ اور صوم وحج کا حکم بعد میں
آیا، چوری وسود خوری، زناکاری وبدکاری اور قتل وغارت گری سے بھی بعد میں منع کیا
گیا۔ کلمۂ توحید کے اقرار سے ہی ایک شخص اسلام میں داخل ہوتا ہے اور کلمۂ توحید
پڑھ کر وفات پانے والا جنت میں جائے گا۔
· توحید کے بعد پورا اسلام
رب کے راستہ کی دعوت
میں فرائض کی بجاآوری اور محرمات سے اجتناب کی دعوت بھی داخل ہے۔ اقامت صلاۃ،
ایتاء زکاۃ، صوم رمضان اور حج بیت اللہ کی دعوت بھی اسی کا حصہ ہے۔ امر بالمعروف،
نہی عن المنکر، جہاد، معاملات، نکاح وطلاق، مکارم اخلاق غرضیکہ مکمل دین رب کے
راستہ کے مفہوم میں داخل ہے۔
داعی کی ذمہ داری ہے
کہ وہ پورے اسلام کی دعوت پیش کرے کسی ایک مذہب یا رائے، کسی ایک قبیلہ یا خاندان،
کسی ایک شیخ یا رئیس، کسی ایک امام یا علامہ کے لئے تعصب درست نہیں۔ داعی کا مقصد
ہمیشہ حق کی وضاحت اور حق کا اثبات ہونا چاہئے خواہ وہ کسی کے موافق ہو یا مخالف۔
اللہ تعالی کا ارشاد
ہے:
ﵟالٓرۚ كِتَٰبٌ أَنزَلۡنَٰهُ إِلَيۡكَ لِتُخۡرِجَ ٱلنَّاسَ مِنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ بِإِذۡنِ رَبِّهِمۡ إِلَىٰ صِرَٰطِ ٱلۡعَزِيزِ ٱلۡحَمِيدِ ﵞ [إبراهيم:
1]
(ترجمہ:الر! یہ عالی شان کتاب ہم نے آپ کی طرف اتاری ہے کہ آپ
لوگوں کو اندھیروں سے اجالے کی طرف لائیں، ان کے رب کے حکم سے، زبردست اور تعریفوں
والے اللہ کے راستے کی طرف)۔
کفر وجہالت اور خواہشات ومعصیت کی تاریکیوں
سے علم وہدایت اور حق وصداقت
کے نور میں لے آنا ، لوگوں کو شیطان کی اطاعت، خواہشات کی پیروی اور جہنم کی آگ سے بچاکر اللہ ورسول کی اطاعت، علم
وہدایت کی پیروی اور جنت کی نعمتوں کی طرف لے آنا داعیٔ
حق کی ذمہ داری ہے۔
هذا
والله أعلم وصلى الله على نبينا وسلم
اعداد : عبد الہادی عبد الخالق مدنی