الحكم الشرعي
للدعوة إلى الله
دعوت الی اللہ کا
شرعی حکم
کتاب وسنت کے واضح
دلائل سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دعوت الی اللہ فرض ہے اور حسب استطاعت ہر مسلمان
کی ذمہ داری ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:
ﵟٱدۡعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِٱلۡحِكۡمَةِ وَٱلۡمَوۡعِظَةِ ٱلۡحَسَنَةِۖ وَجَٰدِلۡهُم بِٱلَّتِي هِيَ أَحۡسَنُۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعۡلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِۦ وَهُوَ أَعۡلَمُ بِٱلۡمُهۡتَدِينَﵞ [النحل:
125]
(ترجمہ: اپنے رب کی راہ کی طرف لوگوں کو حکمت اور بہترین نصیحت کے
ساتھ بلائیے اور ان سے بہترین طریقے سے گفتگو کیجئے، یقینا آپ کا رب اپنی راہ سے
بہکنے والوں کو بھی بخوبی جانتا ہے اور وہ راہ یافتہ لوگوں سے بھی پورا واقف ہے)۔
نیز ارشاد ہے:
ﵟوَلۡتَكُن مِّنكُمۡ أُمَّةٞ يَدۡعُونَ إِلَى ٱلۡخَيۡرِ وَيَأۡمُرُونَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِۚ وَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَﵞ [آل
عمران: 104]
(ترجمہ:تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہئے جو بھلائی کی طرف
بلائے اور نیک کاموں کا حکم کرے اور برے کاموں سے روکے اور یہی لوگ فلاح ونجات
پانے والے ہیں)۔
نیز ارشاد ہے:
ﵟوَٱدۡعُ إِلَىٰ رَبِّكَۖ وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَﵞ [القصص:
87]
(ترجمہ: آپ اپنے رب
کی طرف بلاتے رہیں اور مشرکوں میں سے نہ ہوں)۔
نیز ارشاد ہے:
ﵟوَٱدۡعُ
إِلَىٰ رَبِّكَۖ
إِنَّكَ لَعَلَىٰ
هُدٗى مُّسۡتَقِيمٖﵞ [الحج:
67]
(ترجمہ: آپ اپنے رب
کی طرف لوگوں کو بلائیے یقینا آپ ٹھیک ہدایت پر ہی ہیں)۔
نیز ارشاد ہے:
ﵟكُنتُمۡ خَيۡرَ أُمَّةٍ أُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَأۡمُرُونَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَتَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَتُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِۗﵞ [آل
عمران: 110]
(ترجمہ: تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لئے پیدا کی گئی ہے کہ تم نیک
باتوں کا حکم کرتے ہو اور بری باتوں سے روکتے ہواور اللہ تعالی پر ایمان رکھتے ہو
)۔
اللہ تعالی نے سارے
انبیاء اور رسولوں کو اپنی طرف دعوت دینے کے لئے مبعوث فرمایا۔ آخری نبی محمد ﷺ کے
بارے میں ارشاد ہے:
ﵟيَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ إِنَّآ أَرۡسَلۡنَٰكَ شَٰهِدٗا وَمُبَشِّرٗا وَنَذِيرٗا 45 وَدَاعِيًا إِلَى ٱللَّهِ بِإِذۡنِهِۦ وَسِرَاجٗا مُّنِيرٗا ﵞ [الأحزاب:
45-46]
(ترجمہ:اے نبی! یقینا
ہم نے ہی آپ کو (رسول بناکر) گواہیاں دینے والا، خوشخبریاں سنانے والا، آگاہ کرنے
والا بھیجا ہے۔ اور اللہ کے حکم سے اس کی طرف بلانے والا اور روشن چراغ)۔
عصر حاضر میں دین
برحق کی دعوت کی اہمیت اس وجہ سے بھی بہت بڑھ جاتی ہے کیونکہ تمام گمراہیوں کی دعوت
ہر طرف زوروں پر ہے۔ نصرانیت اپنے طور پر اپنی دعوت میں لگی ہوئی ہے۔ منکرین رسالت
وآخرت، ملحدین، کمیونزم وشوشلزم اور دیگر منحرف افکار وعقائد کے لوگ اپنی اپنی دعوت پھیلانے میں
سرگرم عمل ہیں۔ ایسے حالات میں ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے کہ اپنی استطاعت بھر
دعوت کے کام کو آگے بڑھائے اور اللہ کا سچا دین اللہ کے بندوں تک پہنچائے۔
هذا
والله أعلم وصلى الله على نبينا وسلم
اعداد : عبد الہادی عبد الخالق مدنی