الأربعاء، 21 يناير 2026

 

 

مستحبات يوم الجمعة

جمعہ کے دن کے مستحب اعمال:

          جمعہ کے دن چند کام مستحب ہیں ، جن میں سے چند یہ ہیں:

          ۱۔ صلاۃ فجر میں پہلی رکعت میں سورہ سجدہ اور دوسری رکعت میں سورہ دہر کی تلاوت (متفق علیہ)

          ۲۔ نبی ﷺ پر بہ کثرت درود بھیجنا۔ رسول اﷲ ﷺ کا ارشاد ہے:’’ تمھارے دنوں میں سب سے افضل دن جمعہ کا دن ہے ، اسی دن آدم علیہ السلام پیدا کئے گئے اور اسی دن ان کی روح قبض کی گئی اور اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اسی دن لوگ (قیامت کے لئے )بے ہوش ہوں گے، اس دن مجھ پر زیادہ سے زیادہ درود بھیجوکیونکہ تمھارا درود مجھ پر پیش کیا جائے گا۔ صحابہ نے عرض کیا : اے اﷲ کے رسول! ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا جب کہ آپ بوسیدہ ہوچکے ہوں گے ، آپ نے فرمایا: اﷲ عزوجل نے انبیاء علیہم السلام کے جسموں کو زمین پر حرام کردیا ہے ‘‘۔ (صحیح نسائی وابوداؤد)

          ۳۔ سورہ کہف کی تلاوت ۔ رسول اﷲ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’جس نے جمعہ کے دن سورہ کہف کی تلاوت کی اس کے لئے ایک جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک نور کی چمک ہوگی‘‘۔(اسے حاکم نے روایت کیا ہے اور البانی نے إرواء میں صحیح قرار دیا ہے)

          ۴۔ غسل کرنا۔ نبی ﷺ کا ارشاد ہے: ’’جب تم میں سے کوئی جمعہ کے لئے آئے تو چاہئے کہ غسل کرے‘‘۔ (متفق علیہ) جمعہ کے دن غسل کا نبی ﷺ کا حکم وجوب کے لئے نہیں بلکہ استحباب کے لئے ہے جس کی دلیل آپ ﷺ کا یہ قول ہے کہ’’ جس نے جمعہ کے دن وضو کیا توسنت اور اچھی چیز ہے اور جس نے غسل کیا تو غسل افضل ہے‘‘۔ (صحیح ترمذی وصحیح نسائی)

          ۵۔ مسواک کرنا اور خوشبو لگانا۔ رسول ﷺ نے فرمایا: ’’ہر بالغ کو جمعہ کے دن غسل اور مسواک کرنا چاہئے نیز جس قدر میسر ہو خوشبو لگانی چاہئے‘‘۔(صحیح مسلم)

          ۶۔ حسب استطاعت عمدہ لباس پہننا ۔ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا:’’ جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اور خوشبو لگائی اگر اس کے پاس ہے اور اپنا عمدہ لباس پہنا پھر سکون کے ساتھ چل کر مسجد پہنچا پھر چاہا تو نفل صلاۃ پڑھی اور کسی کو تکلیف نہیں دی پھرجب امام نکلا تو خاموش رہا یہاں تک کہ صلاۃ ادا کی تو اس کا یہ عمل ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کا کفارہ ہوجائے گا‘‘۔ (مسند احمد) نیز نبی ﷺ نے فرمایا:’’ تم پہ کوئی حرج نہیں اگر تم میں سے کوئی پاسکے تواپنے کام کے کپڑوں کے سوا جمعہ کے لئے دو خاص کپڑے بنالے ‘‘۔(سنن ابی داؤد وابن ماجہ)

          ۷۔ صلاۃ کے لئے جلدی نکلنا ۔ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے جمعہ کے دن غسل جنابت کی پھر مسجد گیا تو گویا اس نے ایک اونٹ کا صدقہ کیا اور جو دوسری ساعت میں گیا گویا گائے کا صدقہ کیا اور جو تیسری ساعت میں گیا گویا اس نے سینگ دار دنبے کا صدقہ کیا اور جو چوتھی ساعت میں گیا تو گویا اس نے مرغی کا صدقہ کیا اور جو پانچویں ساعت میں گیا تو گویا اس نے انڈے کا صدقہ کیا پھر جب امام نکل آتا ہے تو فرشتے ذکر ونصیحت سننے کے لئے حاضر ہوجاتے ہیں‘‘۔ (متفق علیہ)

          ۸۔ امام کے نکلنے تک نفلی صلاۃ اور ذکر میں مشغول رہنا ۔

           رسول اﷲ ﷺ کا ارشاد ہے: جس نے غسل کیا پھر جمعہ کو آیا اور جتنا مقدر ہوا صلاۃ پڑھی پھر امام کے خطبہ سے فارغ ہوجانے تک خاموش رہا پھر اس کے ساتھ صلاۃ اداکی تو اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک اور مزید تین دن تک کی بخشش کردی جاتی ہے۔ (صحیح مسلم)

          ۹۔ سورج ڈھلتے ہی جمعہ قائم کرنے میں جلدی کرنا۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سورج ڈھلتے ہی نبی ﷺ صلاۃ جمعہ پڑھا کرتے تھے ۔ نیز فرمایا: ہم جمعہ جلدی پڑھاکرتے تھے اور جمعہ کے بعد ہی قیلولہ کرتے تھے۔(صحیح بخاری)سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کاقول ہے: ہم سورج کا زوال ہوتے ہی رسول اﷲ ﷺ کے ساتھ جمعہ پڑھ لیا کرتے تھے پھر واپس ہوتے تو سایہ تلاش کیا کرتے (صحیح مسلم)

          ۱۰۔ جمعہ کی دونوں رکعتوں میں سورہ اعلی اور غاشیہ یا سورہ جمعہ اور منافقون کی تلاوت ۔ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اﷲ ﷺ عیدین اور جمعہ میں (سبح اسم ربک الأعلی) اور (ہل أتاک حدیث الغاشیۃ) پڑھا کرتے تھے ۔(صحیح مسلم) عبد اﷲ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ صلاۃ جمعہ میں سورہ جمعہ اور منافقون پڑھاکرتے تھے (صحیح مسلم)

          ۱۱۔ صلاۃ جمعہ کے بعد دو یا چار رکعتیں بطور سنت پڑھنا، مسجد میں پڑھنے والا چار رکعتیں پڑھے اور گھر میں پڑھنے والا دو رکعتیں پڑھے۔ عبد اﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : نبی ﷺ جمعہ کے بعد کوئی صلاۃ نہیں پڑھتے تھے یہاں تک کہ گھر واپس پلٹ کرجاتے اور دو رکعتیں پڑھتے۔ (متفق علیہ) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی صلاۃ جمعہ پڑھے تو اس کے بعد چار رکعتیں پڑھے۔(صحیح مسلم)

هذا والله أعلم وصلى الله على نبينا وسلم

اعداد :   عبد الہادی عبد الخالق مدنی