أخلاق الداعية (2)
داعی کے اخلاق واوصاف (2)
تواضع
تواضع تکبر کی ضد ہے،
داعی اپنی قدر پہچانے اور دوسروں کی تحقیر سے بچے۔ داعی یہ بات یاد رکھے کہ جس شاخ
میں پھل لگتے ہیں وہ شاخ جھک جایا کرتی ہے۔ حدیث میں ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی اللہ عنہ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ r قَالَ : مَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ
لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ (رواه مسلم) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو آدمی اللہ واسطے تواضع
اختیار کرتا ہے اللہ اسے بلند کرتا ہے۔ (مسلم)
حلم ورفق
حلم ورفق اور نرمی
وبردباری داعی کی اہم صفات میں سے ہے۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:
ﵟفَبِمَا رَحۡمَةٖ مِّنَ ٱللَّهِ لِنتَ لَهُمۡۖ وَلَوۡ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ ٱلۡقَلۡبِ لَٱنفَضُّواْ مِنۡ حَوۡلِكَۖﵞ [آل عمران: 159]
(ترجمہ:اللہ تعالی کی
رحمت کے باعث آپ ان پر رحم دل ہیں اگر آپ بدزبان اور سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے
پاس سے چھٹ جاتے)۔
موسی اور ہارون علیہم
السلام کو فرعون کے پاس بھیجتے ہوئے اللہ تعالی نے نرمی اختیار کرنے کی نصیحت کی۔
ارشاد فرمایا:
ﵟٱذۡهَبَآ إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ إِنَّهُۥ طَغَىٰ * فَقُولَا لَهُۥ قَوۡلٗا لَّيِّنٗا لَّعَلَّهُۥ يَتَذَكَّرُ أَوۡ يَخۡشَىٰﵞ [طه: 43-44]
( ترجمہ:تم دونوں
فرعون کے پاس جاؤ اس نے بڑی سرکشی کی ہے۔ اسے نرمی سے سمجھاؤ کہ شاید وہ سمجھ لے
یا ڈرجائے)۔
نیز حدیث میں ہے: عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رضی اللہ عنہ عَنْ النَّبِيِّ r قَالَ يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا
وَبَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا. (رواه البخاري ومسلم) انس بن مالک رضی
اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آسانی کرو، دشواری مت کرو، خوشخبری سناؤ اور نفرت مت دلاؤ۔ (بخاری ومسلم)
صبر وبرداشت
دعوت کی راہ مشکلات
کی راہ ہے، صبر کے بغیر کوئی دعوتی عمل انجام نہیں دیاجاسکتا۔لقمان علیہ السلام نے
اپنے بیٹے کو جو نصیحت کی تھی اسے اللہ تعالی نے قرآن مجید میں ذکر کیا ہے، ارشاد
ہے:
ﵟيَٰبُنَيَّ أَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ وَأۡمُرۡ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَٱنۡهَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَٱصۡبِرۡ عَلَىٰ مَآ أَصَابَكَۖ إِنَّ ذَٰلِكَ مِنۡ عَزۡمِ ٱلۡأُمُورِﵞ [لقمان: 17]
(ترجمہ:اے میرے پیارے بیٹے! صلاۃ قائم کرو، اچھے کاموں کی نصیحت
کرتے رہو، برے کاموں سے منع کیا کرو، اور جو مصیبت تم پر آجائے اس پر صبر کرو۔
یقین مانو کہ یہ بڑے تاکیدی کاموں میں سے ہے)۔
سورۂ عصر میں اللہ تعالی نے جن چار
صفات کو خسارہ سے محفوظ رہنے
کا ذریعہ بتایا ہے ان میں سے ایک صفت صبر ہے۔
داعی کو صبر وبرداشت
کا خوگر ہونا چاہئے۔ وہ اپنی دعوت میں کسی اکتاہٹ کے بغیر پیہم لگا رہے۔نیز دعوت
کی راہ میں پیش آنے والی تمام مشکلات کا خندہ پیشانی کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کرے۔
یہ اس روئے زمین پر
اللہ کی سنت ہے کہ ہر داعیٔ حق کو اذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انبیاء کی تاریخ
ہمارے سامنے ہے، کس طرح ان کا مذاق اڑایاگیا، ان کے ساتھ تمسخر کیا گیا، ان کو
بدنام اور رسوا کرنے کی کوشش ہوئی، ان کو قتل کی دھمکی دی گئی بلکہ قتل بھی کیا گیا، فرعون نے موسی علیہ
السلام کے بارے میں جو کچھ کہا تھا قرآن
پاک میں اللہ تعالی نے بیان کیا ہے، ارشاد ہے:
ﵟوَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ذَرُونِيٓ أَقۡتُلۡ مُوسَىٰ وَلۡيَدۡعُ رَبَّهُۥٓۖ إِنِّيٓ أَخَافُ أَن يُبَدِّلَ دِينَكُمۡ أَوۡ أَن يُظۡهِرَ فِي ٱلۡأَرۡضِ ٱلۡفَسَادَﵞ [غافر: 26]
(ترجمہ: اور فرعون نے کہا کہ مجھے چھوڑو کہ میں موسی کو مار ڈالوں
اور اسے چاہئے کہ اپنے رب کو پکارے، مجھے تو ڈر ہے کہ یہ کہیں تمھارا دین نہ بدل
ڈالے یا ملک میں کوئی بہت بڑا فساد نہ برپا کردے)۔
یہودیوں کے بارے میں
اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
ﵟذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ كَانُواْ يَكۡفُرُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَيَقۡتُلُونَ ٱلۡأَنۢبِيَآءَ بِغَيۡرِ حَقّٖۚ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَواْ وَّكَانُواْ يَعۡتَدُونَﵞ [آل عمران: 112]
(ترجمہ: یہ اس لئے کہ
یہ لوگ اللہ تعالی کی آیتوں سے کفر کرتے تھے اور ناحق انبیاء کو قتل کرتے تھے)۔
عیسی علیہ السلام کو ان کے دشمنوں
نے بزعم خویش پھانسی پر لٹکادیا لیکن اللہ تعالی نے حفاظت فرمائی اور زندہ آسمان
پر اٹھالیا۔
خاتم
الانبیاء محمد صلی
اللہ علیہ وسلم کے خلاف چالیں چلی گئیں ،
آپ کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی، آپ کو آپ کا وطن چھوڑنے کے لئے مجبور کیا گیا، آپ
کو ساحر ودیوانہ کہا گیا، ان سب کے باوجود آپ نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا۔
داعی کے لئے انبیاء
ورسل کی زندگیوں میں بہترین اسوہ ہے، داعی کو بھی کبھی صبر کا دامن اپنے ہاتھ سے
نہیں چھوڑنا چاہئے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
ﵟإِنَّهُۥ مَن يَتَّقِ وَيَصۡبِرۡ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجۡرَ ٱلۡمُحۡسِنِينَﵞ [يوسف: 90]
(ترجمہ: بات یہ ہے کہ جو بھی پرہیزگاری اور صبر کرےتو اللہ تعالی
کسی نیکوکار کا اجر ضائع نہیں کرتا)۔
هذا
والله أعلم وصلى الله على نبينا وسلم
اعداد : عبد الہادی عبد الخالق مدنی