الخميس، 22 يناير 2026

 

 

محرمات يوم الجمعة

جمعہ کے دن کی ممنوعات ومحرمات

          جمعہ کے دن بعض چیزیں حرام ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں:

          ۱۔ دوسری اذان ہوجانے کے بعد خرید وفروخت کرنا۔ اﷲ عزوجل کا ارشاد ہے: یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلاَۃِ مِن یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا إِلَیٰ ذِکْرِ اللهِ وَذَرُوا الْبَیْعَ ذَالِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ إِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (الجمعہ؍۹)[اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو ! جمعہ کے دن صلاۃ کے لئے اذان دی جائے تو تم اﷲ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو اور خرید و فروخت چھوڑدو ۔ یہ تمھارے حق میں بہت ہی بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔]

          ۲۔ لوگوں کی گردنیں پھلانگنا اور دو شخصوں کے درمیان تفریق کرنا۔ عبد اﷲ بن بسر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ایک شخص لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے آیا اس حال میں کہ نبی ﷺ خطبہ دے رہے تھے تو رسول اﷲ ﷺ نے اس سے فرمایا: ’’بیٹھ جا تونے تکلیف دی اور دیر سے پہنچا‘‘۔  (ابوداؤد، صحیح نسائی، احمد)

          ۳۔  اپنے کسی مسلمان بھائی کو اس کی نشست سے اٹھا کر خود اس کی جگہ بیٹھ جانا۔ عبد اﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما  فرماتے ہیں : نبی ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص اپنے (مسلمان) بھائی کو اس کی نشست سے اٹھادے اور خود اس کی جگہ بیٹھ جائے ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام نافع رحمہ اﷲ سے پوچھا گیا: جمعہ میں؟ آپ نے فرمایا: جمعہ میں اور اس کے علاوہ میں بھی ۔ (صحیح بخاری)

          ۴۔ صلاۃ جمعہ سے پہلے مسجد میں حلقے بناکے بیٹھنا۔ عمرو بن شعیب اپنے باپ سے ، وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے منع فرمایا ہے مسجد میں خرید وفروخت کرنے سے ، کسی گمشدہ چیز کا اعلان کرنے سے ، (فحش اور لغو) شعر پڑھنے سے نیز صلاۃ جمعہ سے پہلے حلقہ بناکر بیٹھنے سے بھی منع فرمایا ہے۔ (ابوداود)

          ۵۔ خطبۂ جمعہ کے اندر امام اور مقتدی کا ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا سوائے استسقاء کے جیسا کہ انس بن مالک صنے نبی ﷺ سے روایت کی ہے (صحیح بخاری) نبی ﷺ سے ثابت ہے کہ جب آپ نے خطبۂ جمعہ کے اندر استسقاء کی دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو لوگوں نے بھی اپنے ہاتھ اٹھائے۔ (صحیح بخاری)

          ۶۔ تنہا جمعہ کے دن صوم رکھنا اور صرف اسی کی رات قیام کرنا۔ نبی ﷺ کا ارشاد ہے: جمعہ کی رات کو قیام (تہجد) کے لئے خاص نہ کرو اورتمام دنوں کے درمیان میں سے  جمعہ کے دن کو صیام کے لئے مخصوص نہ کروسوائے اس صورت کے کہ کوئی ایسا صوم پڑجائے جسے تم رکھا کرتے تھے۔ (صحیح مسلم)نیز ارشاد ہے: تم میں سے کوئی جمعہ کے دن (خصوصی طور پر) ہرگز صوم نہ رکھے سوائے اس صورت کے کہ اس سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد بھی صوم رکھے۔ (متفق علیہ)

متفرق مسائل

          ۱۔ جس نے جمعہ کی ایک رکعت پالی اس نے جمعہ کی صلاۃ پالی ، بس دوسری رکعت اس سے ملاکر پوری کرلے لیکن جس شخص کو ایک رکعت سے کم صلاۃ مل سکی تو اسے ظہر پڑھنا ہوگا۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے: جب تم جمعہ کی ایک رکعت پاؤ تو اس کے ساتھ دوسری رکعت ملالو لیکن اگر (دوسری رکعت کا) رکوع فوت ہوجائے تو چار رکعتیں پڑھو ۔ (اسے البانی نے ارواء میں صحیح قرار دیا ہے)

          ۲۔ نیند کا غلبہ ہونے کی صورت میں اپنی جگہ بدل کر دوسری جگہ چلاجائے۔ نبی ﷺ کا ارشاد ہے: جب تم میں سے کسی کو جمعہ کے دن اونگھ آئے تو اپنی اس نشست کو بدل لے۔(صحیح ترمذی ، ابوداؤد)

          ۳۔ جو شخص کسی شرعی عذر مثلا بیماری وغیرہ یا کسی اور وجہ سے مسلمانوں کے ساتھ صلاۃ جمعہ کی ادائیگی کے لئے نہیں حاضر ہوسکا وہ صلاۃ ظہر پڑھے گا اور یہی حکم عورتوں ، مسافروں اور خانہ بدوشوں کا ہے ، سنت کی دلالت یوں ہی ہے اور جمہور اہل علم کا یہی قول ہے۔ (مجموع فتاوی شیخ ابن باز)

          ۴۔ مسافر پر جمعہ نہیں ہے کیونکہ نبی ﷺ اپنے اسفار میں جمعہ نہیں پڑھاکرتے تھے ۔ حجۃ الوداع میں عرفات کے میدان میں جمعہ کا دن تھا لیکن آپ نے جمعہ پڑھنے کے بجائے ظہر وعصر کو ایک ساتھ جمع تقدیم کرکے ادا کیا ، ایسے ہی خلفاء راشدین وغیرہ نے بھی کیاہے۔

          ۵۔ شہر اور دیہات ہر جگہ صلاۃ جمعہ قائم کی جائے گی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مسجد نبوی میں جمعہ کے بعد سب سے پہلا جمعہ بحرین کے اندر مقام جواثی میں قبیلہ عبد القیس کی مسجد میں پڑھا گیا ۔ (صحیح بخاری) عثمان بن ابی شیبہ فرماتے ہیں : جواثی قبیلہ عبد القیس کے دیہاتوں میں سے ایک گاؤں کا نام ہے۔ (ابوداؤد)

والحمد للہ رب العالمین وصلی اللہ علی نبینا وسلم

اعداد :   عبد الہادی عبد الخالق مدنی