الأربعاء، 20 مايو 2026

 

ابراہیم علیہ السلام کی حیات مبارکہ[1]

 الحمدلله وكفى وسلام على عباده الذين اصطفى، أما بعد :

توحید و سنت کے متوالو !

قرآن وحدیث کے شیدائیو!

اسلام سے، ایمان سے، احسان سے اور اللہ کی اتاری ہوئی شریعت سے اور اللہ کے دین سے محبت رکھنے والے میرے بھائیو!

 جنت کا شوق رکھنے والے اور جہنم سے بھاگنے کے لیے تڑپ رکھنے والے میرے دوستو !

یہ جو مہینہ چل رہا ہے، حج کا مہینہ ہے اور قربانی قریب ہے۔  ان دنوں میں ابراہیم علیہ السلام کی یاد نہ ائے ،یہ کیسے ممکن ہے!

 ابراہیم علیہ السلام، وہ ہستی جن کو اللہ تبارک و تعالی نے دنیا کی تمام قوموں میں عزت عطا فرمائی ہے،  جن سے یہودی کی محبت کا دعوی کرتے ہیں، بلکہ کہتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام یہودی تھے۔  جن سے نصرانی بھی محبت کا دعوی کرتے ہیں، بلکہ یہ دعوی کرتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام نصرانی تھے۔  اور جن سے سب سے زیادہ محبت رکھنے والے اور جن کا حق ادا کرنے والے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکار اور آپ کے متبعین ہیں۔  جو سب سے زیادہ آپ کو چاہتے ہیں، آپ کا حق ادا کرتے ہیں، آپ کو یاد کرتے ہیں، آپ کے طریقے کی پیروی کرتے ہیں، آپ کے راستے کو اپناتے ہیں۔  جن کو اللہ نے بہت سارے مقام سے نوازا ،جن کو اللہ تعالی نے بہت سارے نبیوں کا باپ بنایا ، ان کی اولاد میں بہت سارے انبیاء بھیجے اور بہت سارے بادشاہ پیدا کیے ۔

اللہ سبحانہ وتعالی نے ابراہیم علیہ السلام   کو امام الموحدین بنایا ،  امام الحنفاء  بنایا ، ان  کو اپنا خلیل  بنایا ، اور ان کا تزکیہ فرماتے ہوئے اعلان کیا کہ ان کا شرک سے اور  مشرکوں سے کوئی تعلق نہیں تھا ۔

اللہ تعالی نے ان کو ایک امت کے برابر قرار دیا۔  ابراہیم علیہ السلام کا مقام و مرتبہ اگر دیکھنے جائیں ، قرآن پاک میں پڑھیں تو اللہ تبارک و تعالی کی بہت ساری گواہیاں ان کے حق میں موجود ہیں۔

 سورہ عنکبوت کی آیت نمبر 27 میں اللہ تعالی نے فرمایا :

﴿وَجَعَلۡنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ ٱلنُّبُوَّةَ وَٱلۡكِتَٰبَ﴾ [العنكبوت: 27]

کہ ہم نے ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں نبوت دی تھی اور کتاب بھی اتاری  تھی۔

یہ بہت بڑا شرف ہے،  یہ بہت بڑی عزت کی بات ہے۔  یہ اللہ تبارک و تعالی کی طرف سے تکریم کی بات ہے۔

  اللہ تعالی نے  مزید فرمایا :

﴿وَءَاتَيۡنَٰهُ أَجۡرَهُۥ فِي ٱلدُّنۡيَاۖ وَإِنَّهُۥ فِي ٱلۡأٓخِرَةِ لَمِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ﴾ [العنكبوت: 27]

اور ہم نے دنیا ہی میں ان کا اجر و ثواب انہیں دیا اور بے شک آخرت میں وہ  نیک لوگوں میں سے ہوں گے۔

آخرت میں جب لوگوں کی دو حصوں میں تقسیم ہوگی ، ایک طرف صالحین ہوں گے،   اللہ کی رحمت میں داخل ہونے والے لوگ ہوں گے،    اور دوسری طرف جہنمی ہوں گے ، اللہ کے عذاب کا شکار ہونے والے ہوں  گے،  تو اس وقت بھی ابراہیم علیہ السلام نیک لوگوں میں سے ہوں گے، جنتیوں میں سے ہوں گے۔

 یہ بہت بڑے شرف اور مقام کی بات ہے  کہ اللہ نے دنیا میں بھی ان کے آثار  باقی رکھے،  ان کا دین باقی رکھا، ان کے چاہنے والے باقی رکھے،  ان کو دعا دینے والے باقی رکھے،  ان کا طریقہ باقی رکھا ، اور اس کے بعد آخرت میں بھی اللہ تبارک و تعالی نے ان کو بہت بڑے  مقام سے نوازا۔

 دنیا میں آپ مشاہدہ کریں  کہ ابراہیم علیہ السلام کی ہر ہر مذہب میں قدر ہے،  چنانچہ عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت ہے، کہتے ہیں کہ نجران کے نصرانی  اور مدینہ کے یہودی  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس  پہنچے  اور ابراہیم علیہ السلام کو ہرکوئی اپنی طرف منسوب کرنا چاہتا تھا ،یہودی کہتے تھے  کہ وہ یہودی تھے،  اور نصرانی کہتے تھے کہ وہ نصرانی تھے۔  اس موقعہ پر اللہ تعالی نے قرآن کریم میں یہ آیت اتاری ۔

﴿يَٰٓأَهۡلَ ٱلۡكِتَٰبِ لِمَ تُحَآجُّونَ فِيٓ إِبۡرَٰهِيمَ وَمَآ أُنزِلَتِ ٱلتَّوۡرَىٰةُ وَٱلۡإِنجِيلُ إِلَّا مِنۢ بَعۡدِهِۦٓۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ﴾ [آل عمران: 65]

 اے کتاب والو!  اے وہ لوگو جنہیں کتاب دیا گیا ہے! تم ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں حجت کیوں کرتے ہو ؟ توریت اور انجیل تو ان کے بعد اتاری گئی ہے۔  توریت کے بعد یہودی بنے،  انجیل کے بعد نصرانی بنے ،   ابراہیم علیہ السلام تو پہلے ہیں،  وہ یہودی  یا نصرانی کیسے ہو سکتے ہیں؟   کیا تمہیں اتنی بھی عقل نہیں ہے؟!

اللہ تعالی نے  مزید فرمایا  کہ تم اگر ایسی باتوں کے بارے میں حجت کرو جن کا تمہیں علم ہے تب تو ٹھیک ہے،  لیکن ایسی باتوں کے بارے میں حجت کیوں کرتے ہو جن کا تمھیں علم ہی نہیں ہے۔  اللہ تبارک و تعالی ہی حقیقی علم رکھتا ہے اور تمہارے پاس حقیقی علم  نہیں ہے ۔

اللہ تعالی نے مزید  فرمایا کہ  ابراہیم علیہ السلام نہ ہی یہودی تھے اور نہ ہی نصرانی تھے بلکہ وہ   حنیف  اور مسلم تھے،  مشرکوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں  تھا۔

اللہ تعالی  نے تین چیزیں بتائیں۔  ایک یہ کہ وہ حنیف تھے۔  حنیف کے معنی یہ ہوتا ہےکہ وہ ایک  ایسے شخص تھے  جو ہر طرف سے کٹ کے ایک اللہ  کے ہوگئے  تھے۔

 سب سے زیادہ چاہنے والے اللہ  کے۔

 عبادت کرنے والے صرف  اللہ کے۔

 امیدیں رکھنے والے صرف اللہ سے۔

 ڈرنے والے  فقط اللہ سے۔

 دعوت عام کرنے والے اللہ کی۔

 بلانے والے اللہ کی طرف ۔

 ہر طرف سے کٹ کے ایک اللہ کے ہو گئے تھے۔

بیوی راستے میں رکاوٹ نہیں بن سکی۔

بچے راستے میں رکاوٹ نہیں بن سکے۔

باپ راستے کی رکاوٹ نہیں بن سکا۔

 ماں راستے میں رکاوٹ نہیں بن سکی۔

مال ودولت  راستے میں رکاوٹ نہیں بن سکی۔

 وطن راستے میں رکاوٹ نہیں بن سکا۔

اپنی بستی راستے میں رکاوٹ نہیں بن سکی۔

سماج ومعاشرہ راستہ کی رکاوٹ نہیں بن سکا۔

کسی طرح کی کوئی  چیز رکاوٹ نہیں  بن سکی۔

اللہ تبارک و تعالی کے لیے جو قربانی درکار ہوئی   ہرطرح کی قربانی پیش  کردی ۔

اللہ کی رضا سب سے مقدم،  اللہ کی خوشی سب سے آگے۔

 یہ ابراہیم علیہ السلام تھے ۔

اللہ تعالی نے گواہی دی ہے کہ وہ حنیف تھے یعنی وہ ہر طرف سے کٹ کے ایک اللہ کے ہو گئے تھے۔

اللہ تعالی نے ابراہیم علیہ السلام کی دوسری صفت یہ بتلائی کہ وہ مسلم تھے۔

 مسلم کسے کہتے ہیں؟

مسلم اسے کہتے ہیں  جو فرماں بردار ہو،  اطاعت گزار ہو، بات ماننے والا ہو، بات پہ عمل کرنے والا ہو، حکم کی تعمیل کرنے والا ہو۔

 اللہ تعالی نے فرمایا کہ  ابراہیم علیہ السلام مسلم تھے یعنی  اللہ کے فرمانبردار تھے،    اطاعت گزار تھے،   نافرمان نہیں تھے،   مشرک نہیں تھے۔  وہ کسی بھی حکم کو  ٹالنے والے اور پیچھے چھوڑنے والے نہیں تھے،  بلکہ بڑھ کر عمل کرنے والے تھے۔

 اللہ تعالی نے مزید فرمایا کہ ابراہیم علیہ السلام سے سب سے زیادہ قریبی وہ لوگ ہیں جو ان پہ ایمان لائے۔اور اس کے بعد  یہ نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور پھر جو لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے ہیں۔

یہ نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس لئے  ابراہیم علیہ السلام کے قریبی ہیں کیونکہ یہ انھیں کی دعوت توحید لے کے آئے ہیں، اور اہل ایمان اس لئے ابراہیم علیہ السلام کے قریبی ہیں کیونکہ وہ  ابراہیم علیہ السلام کی دکھائی ہوئی توحید کی راہ پر چل رہے ہیں۔

 مذکورہ باتیں قرآن مجید کی  سورہ آل عمران میں 65 نمبر سے 68 نمبر تک کی آیات  میں بتائی گئی ہیں۔

ان آیات میں بتلایا گیا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کے سب سے زیادہ قریبی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  اور آپ کے پیروکار ہیں۔

 چنانچہ اگر آپ دیکھیں اور غور کریں تومعلوم ہوگا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے ابراہیم علیہ السلام کے سب سے زیادہ چاہنے والے ہیں ،  سب سے زیادہ ان کا حق ادا کرنے والے ہیں اور سب سے زیادہ ان کو یاد کرنے والے ہیں۔

 جب بھی ہم مسلمانوں میں سے کوئی  مسلمان صلاۃ اد کرتا ہے تو ابراہیم علیہ السلام کا نام لئے بغیر اس کی صلاۃ  مکمل نہیں ہوتی۔  جب درود پڑھتے ہیں تو ان کا نام آتا ہے۔  ہم کہتے ہیں ( اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ   ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ )  یعنی اے اللہ! تو اپنی رحمتیں نازل فرما،  ذکر بلند کر دے ،   نیکنامی عام کر دے ،  درجہ ورتبہ اور مقام بڑھا دے ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اور ان کے پیروکاروں کا،  جس طرح تو نے ابراہیم علیہ السلام کا اور ان کے متبعین کا درجہ بڑھایا تھا ، اے اللہ تو بڑا بزرگ و برتر  اور بڑا قابل تعریف ہے۔

میرے بھائیو! آیئے، اب ہم ابراہیم علیہ السلام  کےبعض  آثار ونقوش اور نشانیوں  کا ذکر کرتےہیں۔

  کعبہ  ان کی نشانی ہے ۔

مقام ابراہیم ان کی نشانی ہے۔

زمزم ان کی نشانی ہے۔

صفا اور مروہ  ان کی یادگار ہے۔

 منیٰ ان کی نشانی ہے۔

مناسک حج میں ان کی یاد مضمر ہے۔

 مختصر یہ کہ  اللہ تبارک و تعالی نے ایسی ایسی عبادات قائم کر دی ہیں کہ سال بسال ہم انہیں یاد کرتے رہتے  اوران کا ذکر خیر کرتے رہتے ہیں۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنی صورت وسیرت میں  ابراہیم علیہ السلام سے بہت زیادہ مشابہت رکھتے تھے۔ آپ کی شکل و شباہت  اور  آپ کی ساخت اور  بناوٹ  ابراہیم علیہ السلام سے بہت حد تک  ملتی جلتی تھی۔  

اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز زندگی،  آپ کی حیات مبارکہ ، آپ کی دعوت ، آپ کا رہن سہن،  آپ کا معاملہ اور  آپ کا طرز حیات ، یہ سب بھی ابراہیم علیہ السلام سے بہت زیادہ ملتا جلتا  ہے اور  بہت زیادہ مشابہ ہے۔

صحیح مسلم میں اللہ کے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ہے۔

(( عُرِضَ عَلَيَّ الْأَنْبِيَاءُ، فَإِذَا مُوسَى ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ، كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ، وَرَأَيْتُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ، وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ صَلَوَاتُ اللهِ عَلَيْهِ، فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا صَاحِبُكُمْ - يَعْنِي نَفْسَهُ -)).

 انبیائے کرام میرے سامنے لائے گئے۔ موسیٰ  علیہ السلام پھرتیلے بدن کے آدمی تھے، جیسے قبیلہ شنوءہ کے مردوں میں سے ایک ہوں، اور میں نے عیسیٰ ابن مریم  علیہ السلام کو دیکھا، مجھے ان کے ساتھ سب سے قریبی مشابہت عروہ بن مسعودمیں نظر آتی ہے۔ میں نے ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا، مجھے ان کے ساتھ سب سے قریبی مشابہت تمہارے صاحب  میں نظرآئی، یعنی خود آپ ﷺ میں ۔

جس طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم  کی صورت ابراہیم علیہ السلام سے ملتی ہے اسی طرح   آپ کی سیرت بھی ابراہیم علیہ السلام سے ملتی ہے۔

 ابراہیم علیہ السلام نے  اپنی دعوت  اپنے گھر سے شروع کی ، سب سے پہلے اپنے والد کو سمجھایا ، جیسا کہ اس کی تفصیل ان شاء اللہ آگے آئے گی۔  اسی طرح  نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی دعوت اپنے گھر سے شروع کی۔ پہلے  اپنی بیوی کو دعوت دی  اور اپنے گھر میں موجود اپنے  چچیرے بھائی کو دعوت دی اور  اپنے غلام کو دعوت دی اور اسی طرح اپنے  قریبی دوست کو دعوت دی۔  

بہرکیف جس طرح ابراہیم علیہ السلام  نے اپنے قریب تر لوگوں سے دعوت شروع کی اسی طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی  دعوت شروع کی اور درحقیقت دعوت کا یہی صحیح طریقہ اور یہی اللہ کی تعلیم ہے۔ چنانچہ  قرآن مجیدمیں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

﴿وَأَنذِرۡ عَشِيرَتَكَ ٱلۡأَقۡرَبِينَ﴾ [الشعراء: 214]

پہلے اپنے قریبی رشتہ داروں کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیں۔

دعوت وتبلیغ  کا ایسا  طریقہ صحیح  نہیں کہ اپنے گھر کو بھول جاؤ، اپنے پڑوس کو بھول جاؤ، اپنی بستی کو بھول جاؤ اور پوری دنیا میں جا جاکے اور گھوم پھر کے دوسروں  کو سناؤ اور سکھاؤ ، اور  اپنی بستی اور اپنے گھر کو محروم رکھو  ۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے : چراغ تلے اندھیرا  والا  معاملہ رہے۔

درست طریقہ یہ ہے کہ پہلے اپنے گھر سے شروع کرو،  اپنے قریبی سے ، اپنے رشتے داروں سے،  اپنے بیوی بچوں سے ، اپنے بیٹوں  بیٹیوں سے،  اپنے دوستوں سے،  اپنے بھائیوں سے،  یہاں سے شروع کرو ۔  چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی کیا ۔

 نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی  وہ حدیث پڑھئے  جو متفق علیہ ہے۔ صحیح  بخاری میں بھی ہے اور صحیح مسلم میں بھی  کہ آپ  ﷺ نے  اپنے چچا عباس کو مخاطب کرکے کہا:  اے چچا عباس ! میرے دادا عبدالمطلب کے بیٹے ! میں آپ کو اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتا۔  اے میری پھوپھی صفیہ!  میں آپ کو اللہ کے عذاب سے کچھ  بھی بچا نہیں سکتا ،اے فاطمہ ! اے رسول اللہ کی بیٹی!  جو مانگنا ہے مجھ سے مانگ لو،  دنیا کے مال میں سے جو چاہیے طلب کر لو،  لیکن میں تمہیں اللہ سے بچا نہیں سکتا۔

 اللہ کے نبی نے سب سے پہلے کس کو دعوت دی؟

 اپنے گھر والوں کو دعوت دی۔

 اپنی بیٹی کو،  اپنی پھوپھی کو،  اپنے چچا کو،  اپنے قریبیوں کو آپ نے دعوت دی ، بالکل اسی طرح جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے  سب سے پہلے اپنے والد کو دعوت دی تھی۔

میرے بھائیو ! ایک بات یہاں پر ٹھہر کر غور کرنے کی ہے کہ آج  بہت سارے لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ مجھے فلاں بچا لیں گے اور فلاں بچا لیں گے،  میں فلاں کا  دامن پکڑ لوں گا اور فلاں کا  دامن پکڑ لوں گا ۔ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیٹی،  صلبی بیٹی، نسبی بیٹی، سگی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہتے ہیں کہ  بیٹی میں تیرے کوئی کام نہیں آسکتا اگر تو اللہ پر ایمان نہیں لاتی ، اور میں تیرے کچھ کام نہیں آ سکتا اگر تو  مجھ پر ایمان نہیں لاتی۔

ایمان کے بعد ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شفاعت کریں گے۔

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی  شفاعت کن لوگوں کے لیے ہوگی؟

صرف ان لوگوں کے لئے ہوگی  جو توحید والے ہوں گے،  جو لا الہ الا اللہ والے ہوں گے۔

 توحید کی عدم موجودگی میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کسی کی شفاعت نہیں کریں گے۔

 جوشرک کرے گا اللہ کے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم اس کی شفاعت  ہرگز نہیں کریں گے۔

----------------

میرے بھائیو! اللہ تبارک و تعالی نے بچپن ہی سے ابراہیم علیہ السلام کو ہدایت عطا فرما دی تھی۔   اللہ تعالی نے اپنی نگرانی میں ان کی تربیت کی تھی، وہ بتوں کی گندگیوں سے پاک رہے۔

 اسی طرح سے اللہ تعالی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی پرورش کی۔  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  بھی کبھی بتوں کی گندگی کے قریب نہیں گئے۔ جب کہ ابھی قرآن کریم آپ پر نازل نہیں ہوا تھا۔  یہ بات ہرکسی کو معلوم ہے کہ 40 برس ہوجانے کے بعد آپ پر قرآن نازل ہونا شروع ہوا۔  لیکن اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نہ کبھی شراب کے قریب گئے،  نہ کبھی زنا کے قریب گئے، نہ کبھی جھوٹ کے قریب گئے ، نہ کبھی اور کسی برائی کے قریب گئے جو عرب کے اس گندے ماحول میں پھیلی ہوئی تھی۔ عرب کے   اس جاہلی  معاشرے میں جو خرابیاں پھیلی ہوئی  تھیں کسی بھی خرابی سے آپ کا دامن آلودہ نہیں ہوا۔  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوری طرح پاکباز اور صاف ستھرے تھے۔  بے داغ جوانی کے مالک تھے ۔ آپ کا دشمن  بھی  آپ کی پاک بازی کی گواہی دیتا تھا۔

ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا:

﴿وَلَقَدۡ ءَاتَيۡنَآ إِبۡرَٰهِيمَ رُشۡدَهُۥ مِن قَبۡلُ وَكُنَّا بِهِۦ عَٰلِمِينَ﴾ [الأنبياء: 51]

اور بلاشبہ یقیناً ہم نے اس سے پہلے ابراہیم کو اس کی سمجھ بوجھ عطا فرمائی تھی اور ہم اسے جاننے والے تھے۔

 یعنی بچپن ہی میں ان کو سوجھ بوجھ اور رشد وہدایت عطا کردی گئی تھی۔ حق  کیا ہے  اور باطل کیا ہے؟ صحیح کیا ہے اور غلط کیا ہے ؟ ٹھیک کیا ہے  اور بے ٹھیک کیا ہے؟  ان سب  کی سمجھ اللہ تعالی نے بچپن ہی سے ابراہیم علیہ السلام کو عطا فرما دی تھی۔  اور اللہ تعالی  خوب جانتا ہے کہ کون کس لائق ہے۔  کس کو کیا  دینا چاہیے اور کیا نہیں دینا چاہئے۔  کس برتن میں کیا رکھنا چاہئے؟ اللہ  سبحانہ کی حکمت اسے خوب جانتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ہر برتن ہر سامان رکھنے کے لائق نہیں ہوتا۔  ظرف کی قابلیت کے مطابق ہی اس میں کوئی مادہ رکھا جاتا ہے۔ 

میرے بھائیو ! آئیے دیکھتے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد کو توحید کی دعوت کس طرح پیش کی؟

سورہ مریم میں 41 نمبر سے 45 نمبر تک کی  آیات میں اللہ تعالی نے اس کو بیان کیا ہے ، بلکہ اور آگے تک بھی اسی قصہ کا بیان  اللہ تعالی نے جاری رکھا ہے ۔

اللہ تعالی نے فرمایا:

﴿وَٱذۡكُرۡ فِي ٱلۡكِتَٰبِ إِبۡرَٰهِيمَۚ إِنَّهُۥ كَانَ صِدِّيقٗا نَّبِيًّا﴾ [مريم: 41]

(اور اس کتاب یعنی قرآن کریم  میں ابراہیم علیہ السلام  کا ذکر کیجئے، بے شک وہ بہت سچے تھے اور  نبی تھے)۔

 ابراہیم علیہ السلام  کو اللہ تعالی نے صدیقیت اور نبوت دونوں عظیم مقامات سے سرفراز فرمایا تھا۔  وہ نبی بھی تھے اور صدیق بھی تھے۔

صدیقیت کا کیا معنی ہے؟

صدیقیت  صدق سے مشتق ہے۔  صدق کے معنی سچائی  کے ہوتے ہیں۔ صدیق یعنی ایسا آدمی جواپنی زبان کا سچا ہو،  اپنے عمل کا سچا ہو،     اپنے دل کا سچا ہو،    شک و شبہ سے بہت دور ہو،  یقین پہ قائم ہو،  جب کوئی سچی بات دیکھے تو اس کی تصدیق کرے،  اس کو سچ مانے،  اس کے فروغ اور اس کی نشرواشاعت میں حصہ لے۔

 ابراہیم علیہ السلام سچ بولنے والے بھی تھے،  سچ پہ چلنے والے بھی تھے،  سچ کی تصدیق کرنے والے بھی تھے،  سچ کو پھیلانے والے بھی تھے،  سچ کی نشر واشاعت  کرنے والےبھی تھے۔  سچ کو فروغ  دینے والے بھی تھے۔

 ابراہیم علیہ السلام صدیق بھی تھے اور نبی بھی تھے۔

 اللہ کی وحی ان پر نازل ہوتی تھی۔

 اللہ تبارک و تعالی ان کے اوپر الہام فرماتا تھا۔

 اللہ تعالی نے ان پر اپنی کتاب نازل کی۔  انھیں صحیفے عطا فرمائے۔

 میرے بھائیو ! آگے اللہ تعالی نے فرمایا:

﴿إِذۡ قَالَ لِأَبِيهِ يَٰٓأَبَتِ لِمَ تَعۡبُدُ مَا لَا يَسۡمَعُ وَلَا يُبۡصِرُ وَلَا يُغۡنِي عَنكَ شَيۡـٔٗا﴾ [مريم: 42]

یاد کیجئے کہ جب ابراہیم علیہ السلام  نے اپنے باپ سے کہا کہ ابا جان! آپ ان کی پوجا پاٹ کیوں کر رہے ہیں جو نہ سنیں نہ دیکھیں؟ نہ آپ کو کچھ بھی فائدہ پہنچا سکیں۔

غور کیجئے کہ  ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد سے کتنی وضاحت سے  کہا کہ  اے ابا جان!  آپ ان کی عبادت کیوں کرتے ہیں جو نہ سن سکتے ہیں، نہ دیکھ سکتے ہیں ،  نہ آپ کی کسی مصیبت کو ٹال سکتے ہیں، نہ  آپ کے کسی کام  آ سکتے ہیں۔  یعنی آپ جن کی عبادت کررہے ہیں  وہ ناقص ہیں،  کمزور ہیں ،  عیب دار ہیں۔  وہ عبادت کے حقدار نہیں ہیں۔  عبادت  کا حقدار وہ ہوتا ہے  جو کامل ہو،  جو طاقتور ہو،  جب آپ  پر کوئی پریشانی آئے  تو وہ  آپ کی پریشانی کو دور کرسکے۔

 عبادت اس ہستی  کی کرنی چاہیے کہ آپ کے دل  میں اگر کوئی ڈر پیدا ہو  تو وہ آپ کا ڈر ختم کرسکے ، آپ کے خوف کو مٹا سکے۔

 عبادت اس مالک  کی کرنی چاہیے کہ  جب آپ کو اس سے کوئی امید ہو تووہ  آپ کی امید کے مطابق بلکہ امید سے بھی  زیادہ عطا کر دے۔  جس کے خزانوں میں کوئی کمی نہ ہو۔

 آپ کس کی عبادت کر رہے ہیں؟!!!

 اپنے ہاتھ سے گھڑتے ہیں،  اپنے ہاتھ سے تراشتے ہیں، اپنے ہاتھ سے بناتے ہیں،  جس کی چاہیں ناک بڑی کر دیں، جس کی چاہیں چھوٹی کر دیں ، جس کا چاہیں  ہاتھ لمبا کر دیں ، جس کا چاہیں چھوٹا کر دیں،  جس کا چاہیں قد بڑا کر دیں، جس کا چاہیں چھوٹا کر دیں۔  آپ اپنی مرضی، اپنی چاہت اور اپنی خواہش سے جیسا چاہیں ویسی مورت گھڑلیں۔

عجیب بات ہے کہ  خود ہی تراشتے ہیں، خود ہی بناتے ہیں اور اس کے بعد پھر اسی کے آگے ہاتھ پھیلانے لگتے ہیں،  پھر اسی سے مانگنے لگتے ہیں، پھر اسی کو پوجنے لگتے ہیں ،پھر اسی کے آگے جھکنے لگتے ہیں،  اسی کو اپنا معبود بنا لیتے ہیں،  یہ کیا ہے؟ یہ کون سے عقل کی بات ہے؟ یہ کون سے دین کی بات ہے؟ یہ کون نبی سکھا کے گئے ہوں گے ؟

دنیا کی کوئی سرزمین ایسی نہیں ہے جہاں انبیاء نہیں آئے ۔جہاں ہدایت دینے والے نہیں آئے۔  دنیا کے ہر ہر کونے میں نبی آئے،  رسول آئے،  اللہ کا پیغام پہنچایا،   ہدایت کی راہ دکھلائی۔  جو بھی اچھی بات کہیں باقی ہے وہ نبیوں کی وراثت ہے۔ نبیوں کی بتائی ہوئی باتیں ہیں۔  

مختصر یہ کہ بت پرستی  نہ ہی عقل کی بات ہے اور  نہ ہی شریعت کی بات ہے۔

پھر ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد کو حق کی دعوت دیتے ہوئے کہا:

﴿يَٰٓأَبَتِ إِنِّي قَدۡ جَآءَنِي مِنَ ٱلۡعِلۡمِ مَا لَمۡ يَأۡتِكَ فَٱتَّبِعۡنِيٓ أَهۡدِكَ صِرَٰطٗا سَوِيّٗا﴾ [مريم: 43]

میرے مہربان باپ! آپ دیکھیے میرے پاس وہ علم آیا ہے جو آپ کے پاس آیا ہی نہیں، تو آپ میری ہی مانیں، میں بالکل سیدھی راہ کی طرف آپ کی رہبری کروں گا۔

کتنا اچھا انداز ہے!!

 پہلے کہا:  اے ابا جان ! یعنی شفقت پدری کو ابھارا، اس رشتے کو بیان کر کے بات شروع کی جو  داعی اور مدعو میں تھا۔

  ایک باپ کی جو بیٹے سے محبت ہوتی ہے اس محبت کی کشش کے ذریعہ  ہدایت پہ لانا چاہتے ہیں۔  اس محبت کا سہارا لے کر حق کی راہ پر لگا نا چاہتے ہیں۔  اس محبت کا واسطہ دےکر انھیں جنت کی طرف بلانا چاہتے ہیں۔ 

یہاں پر دعوت کے میدان میں کام کرنے والوں کے لئے ایک خوبصورت اور موثر اسوہ اور نمونہ کے ساتھ ساتھ ایک سبق بھی ہے کہ جب کسی کو  دعوت دیں تو  مدعو  سے اپنا رشتہ ذکر کرتے ہوئے اسے مخاطب کریں۔  مثال کے طور پر یوں کہیں: اے میرے ہم وطن!  اے میرے گاؤں والے! اے میری بستی والے! اے میرے رشتے والے!  اے فلاں ، اے فلاں!  پہلے اس سے آپ اپنا تعلق ذکر کریں،  اس تعلق کے بتانے کے بعد پھر اس کو اللہ کی طرف بلائیں۔

ابراہیم علیہ السلام نے اس کے بعد کہا:   میرے پاس وہ علم آیا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا ہے۔

  یہ نہیں کہا کہ آپ  جاہل ہو، آپ  نادان ہو، بلکہ یوں کہا کہ  میرے پاس وہ علم آیا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا ہے ۔ یعنی علم آپ کے پاس بھی آیا ہے، میرے پاس بھی آیا ہے، لیکن میرے پاس جو آیا ہے وہ  آپ کے پاس نہیں آیا،   ان کے پاس علم ہونے کا  انکار نہیں کیا،   لیکن یہ کہا کہ جو  علم  اللہ تعالی نے اپنے خصوصی فضل و کرم سے مجھے دیا  ہے وہ آپ کے پاس  نہیں ہے۔  یہ اللہ کا احسان  ہے۔  اللہ جس کو چاہے اسے عطا کرتا ہے۔  

 جب اللہ نے مجھے علم دیا ہے،  توحید کا علم ،لا الہ الا اللہ کا علم ، اپنی پہچان اور معرفت  کا علم تو میری ذمہ داری ہے کہ میں اسے بتاؤں اور  آپ کی ذمہ داری  ہے کہ  آپ اسے مانیں۔

کس قدر خوبصورت انداز میں ابراہیم علیہ السلام نے سمجھایا کہ جس کے پاس علم نہیں اس کو علم والے کی بات ماننی چاہئے۔  یہی تو عقل کی بات ہے۔

آیئے اس بات کو ایک مثال سے سمجھتے ہیں۔

آپ کے گھر کی اےسی خراب ہو گئی،  آپ کو اس کی اصلاح کا علم نہیں ہے۔   اب کوئی اے سی کی اصلاح  کا ماہر آکر کہتا ہےکہ  میں اس کا بنانے والا ہوں،  میں جانتا ہوں  کہ اس میں کیا خرابی ہے۔ آپ  میری بات مانو،  میں اسے ٹھیک کر دیتا ہوں ۔ آپ کو اس کی بات ماننی چاہئے یا نہیں؟ اب اگر آپ کہنے لگیں کہ  میں تمہاری بات نہیں مانتا ،  میں اے سی  خود بناؤں گا،  تو سچ سچ بتاؤ کہ  آ پ بناؤ گے کہ بگاڑو گے؟

کوئی بھی مسئلہ ہو،    دین کا ہو یا  دنیا کا ،  اگر علم کے بغیر اسے حل کرنے کی کوشش ہوئی تو مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید خراب ہوگا۔

 علم کے بغیر جو کام ہوگا بننے کے بجائے بگڑے گا ۔

اس لیے جس کو اللہ کی پہچان نہیں ہے،  جس کو اللہ کے مقام و مرتبے کی پہچان نہیں،  جس کو شرک اور توحید کی پہچان نہیں،  جس کو آخرت اور جنت و جہنم کا پتہ نہیں،  جب کوئی سچا انسان اس سے  کہے کہ اللہ نے مجھے علم دیا ہے میری بات مانوتو  اس کی بات ماننی چاہیے۔

ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد سے کہا کہ ابا جان!   میرے پاس وہ علم آیا ہے جو آپ کے پاس نہیں  آیا ، لہٰذا  آپ میری پیروی کریں ، میں  آپ کو بالکل سیدھی راہ  دکھاؤں گا۔

یہ علم کی فضیلت ہے۔  اگر علم کسی کم عمر شخص کے پاس ہے تو بڑی عمر والے کو چھوٹی عمر والے کی پیروی کرنی چاہئے۔

ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد کو دعوت دیتے ہوئے مزید فرمایا:

﴿يَٰٓأَبَتِ لَا تَعۡبُدِ ٱلشَّيۡطَٰنَۖ إِنَّ ٱلشَّيۡطَٰنَ كَانَ لِلرَّحۡمَٰنِ عَصِيّٗا﴾ [مريم: 44]

میرے ابا جان!  آپ شیطان کی عبادت نہ کیجئے۔  شیطان تو رحم و کرم والے اللہ تعالیٰ کا بڑا ہی نافرمان ہے۔

 یاد رکھیں کہ جہاں بھی اللہ کی عبادت نہیں ہوگی وہاں  شیطان کی عبادت ہوگی خواہ بظاہر کسی بھی چیز کی عبادت کی جائے۔ خواہ لکڑی کی ، خواہ   پتھر کی،  خواہ  قبر کی،  خواہ  مورت کی ، خواہ  حیوان کی،  خواہ  انسان کی،  خواہ  فرشتوں کی۔  اپنی سمجھ سے کسی  بھی چیز کی  عبادت کی جائے  وہ  درحقیقت شیطان کی عبادت  ہوتی ہے۔

جہاں رحمٰن کی عبادت نہیں ہوتی وہاں شیطان کی عبادت ہوتی ہے۔  اور شیطان تو رحمٰن کا نافرمان ہے۔

رحمٰن  اللہ کا وہ نام ہے جو رحمت سے مشتق ہے یعنی اگر اپ اللہ کی رحمت چاہتے ہیں تو عاصی اور  گنہگار بن کے اس کی رحمت  نہیں پائیں گے ۔ شیطان رحمان کا عاصی ہے ،  اللہ کی رحمت سے دور ہے۔  اگر آپ بھی نافرمانی کریں گے اور شیطان سے دوستی کریں گے اور شیطان کے راستے پہ چلیں گے رحمان کی رحمت سے محروم ہو جائیں گے۔  اگر  آپ چاہتے ہیں کہ  رحمان کی رحمت حاصل ہو تو رحمٰن کی  اطاعت و فرماں برداری کر یں۔  اس پر ایمان لائیں اور اس کے حکموں پر عمل کریں۔

ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد کو سمجھاتے ہوئے مزید کہا:

﴿يَٰٓأَبَتِ إِنِّيٓ أَخَافُ أَن يَمَسَّكَ عَذَابٞ مِّنَ ٱلرَّحۡمَٰنِ فَتَكُونَ لِلشَّيۡطَٰنِ وَلِيّٗا﴾ [مريم: 45]

ابا جان! مجھے خوف لگا ہوا ہے کہ کہیں آپ پر کوئی عذاب الٰہی نہ آپڑے کہ آپ شیطان کے ساتھی بن جائیں۔

رحمان بہت رحمت والا ہے لیکن اس کی رحمت کو بھی غصہ آجاتا ہے جب کوئی اس کے ساتھ شرک کرتا ہے،  جب کوئی اس پر ایمان نہیں لاتا ،جب کوئی اس کا  کفر کر دیتا ہے تو وہ رحمت والا ہونے کے باوجود اس پر رحمت نہیں کرتا ۔

اللہ  کی رحمت بے پناہ ہے۔  اس کی رحمت بے حد و حساب ہے۔  اس کی ہوا چلتی ہے تو کسی میں فرق نہیں کرتی۔  اس کا سورج نکلتا ہے تو کسی میں فرق نہیں کرتا ،سب کو روشنی دیتا ہے۔  اس کی بارش برستی ہے تو کسی میں فرق نہیں کرتا، سب کو سیرابی عطا کرتا ہے۔  اسی طرح جب  اس کی تعلیمات  آتی ہیں،  جب نبی اس کی کتاب لاتے ہیں، اس کا دین لاتے ہیں،  تو وہ سب کو اپنا دین سناتے ہیں، فرق نہیں کرتے کہ کسی کو دین بتائیں گے اور کسی کو نہیں بتائیں گے۔

 انبیاء کرام اور رسولان عظام اللہ کا دین سب کو بتلاتے ہیں۔  لیکن اس کے بعد جب کوئی شخص دین کو قبول کرلیتا ہے، اور صاحب ایمان واطاعت بن جاتا ہے تو وہ شخص دنیا و آخرت دونوں جگہ اللہ کی رحمت کا مستحق ہوجاتا ہے۔

یاد رہے کہ اس دنیا میں اللہ کی رحمت عام ہے۔  یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔    اللہ کی نظر میں  یہ دنیا کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ دنیا  میں اللہ کی  رحمت سب کے لیے عام ہے،  لیکن جب یہ دنیا ختم ہو جائے گی،  امتحان کی جگہ ختم ہو جائے گی،  اور بدلہ کا دن آجائے گا تو اس دن اللہ کی  رحمت صرف ان  کو ملے گی جو اللہ پہ ایمان لائے،   اللہ کے نبیوں پہ ایمان لائے ،  اور جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہوئے اپنی زندگی گزاری۔

  میرے بھائیو ! آپ دیکھ رہے ہیں کہ کس قدر خوبصورت اور پیارے انداز میں ابراہیم علیہ السلام اپنے والد کو سمجھارہے ہیں۔ لیکن اس کے مقابلے میں ان کے والد کا حیرتناک  ردعمل دیکھئے۔  

ابراہیم علیہ السلام کے والد  سختی اور شدت پسندی بلکہ تشدد  اور مار پیٹ پر  اتر آئے ۔ اپنےباپ دادا کے راستے کو چھوڑنے کے لیے ہرگز تیار نہیں ہوئے۔

ابراہیم علیہ السلام کے والد کا قول نقل کرتے ہوئے  اللہ تعالی نے قرآن پاک میں فرمایا:

﴿قَالَ أَرَاغِبٌ أَنتَ عَنۡ ءَالِهَتِي يَٰٓإِبۡرَٰهِيمُۖ لَئِن لَّمۡ تَنتَهِ لَأَرۡجُمَنَّكَۖ وَٱهۡجُرۡنِي مَلِيّٗا﴾ [مريم: 46]

ابراہیم علیہ السلام کے والد نے کہا  کہ اے ابراہیم! کیا تو ہمارے معبودوں سے روگردانی کر رہا ہے۔ سن، اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے پتھروں سے مار ڈالوں گا، جا ایک مدت دراز تک مجھ سے الگ رہ۔

غور کرنے کا مقام ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کے والد نے کس قدر سنگدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ اے ابراہیم!اگر تم اپنی اس حرکت سے باز نہیں آتے تو میں تمہیں پتھر مار مار کے مار ڈالوں گا۔ ایسے نہیں کہ تلوار سے مار دوں گا اور ایک ہی بار میں جان نکل جائے گی،  بلکہ ایسی مار ماروں گا جو انتہائی دردناک  اور تکلیف دہ  ہوگی ،  سخت سزا دوں گا،  پریشان کرکے اور ستا ستا کے ماروں گا۔

یاد رہے کہ کافر کے دل میں سختی ہوتی ہے ۔ اس کے دل میں اللہ کے بندوں کے لیے رحمت نہیں ہوتی۔  کافر کے دل میں  انسانیت اور رشتوں  کی محبت نہیں ہوتی ۔  یہ اس کافر کی بات ہے جو  اپنے کفر پہ اڑا ہوا ،  ڈٹا ہوا ، شدت کے ساتھ جما ہوا ہو،   ایسے کافر کے دل میں رحمت نہیں ہوتی،    انسانیت کی محبت نہیں ہوتی اور چھوٹوں پر شفقت نہیں ہوتی۔

چنانچہ  ابراہیم علیہ السلام کے والد اپنے کفر اور باپ دادا کے طریقوں کی بے جا حمیت اور تائید  میں آگئے۔  اور انہوں نے کہا کہ اگر تم اپنی اس دعوت سے،  توحید کی طرف بلانے سے باز نہیں آتے تو میں تمہیں پتھر سے مار مار کے مار ڈالوں گا۔  ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ مجھے اپنی حالت پر چھوڑ دو، یہاں سے نکل جاؤ  اور میرے قریب بھی ہرگز نہ آنا۔

لیکن اتنا سب کچھ ہونے کے بعد ابراہیم علیہ السلام کا رد عمل کیا تھا ، اسے قرآن کریم کے الفاظ میں دیکھئے۔

﴿قَالَ سَلَٰمٌ عَلَيۡكَۖ سَأَسۡتَغۡفِرُ لَكَ رَبِّيٓۖ إِنَّهُۥ كَانَ بِي حَفِيّٗا﴾ [مريم: 47]

کہا اچھا تم پر سلام ہو، میں تو اپنے پروردگار سے تمہاری بخشش کی دعا کرتا رہوں گا، وہ مجھ پر حد درجہ مہربان ہے۔

یہاں پر ابراہیم علیہ السلام کا خوب صورت رویہ اور حسن سلوک دیکھنے کی چیز ہے۔ 

ابراہیم علیہ السلام نے کہا : آپ پر سلام ہو۔

 یعنی آپ مجھے مارنا چاہتے ہیں ، میری ہلاکت کے آرزومند ہیں لیکن میں اس کے برعکس آپ کی سلامتی کا خواہش مند ہوں،  آپ امن سے رہو،   چین وسکون سے رہو، سلامت رہو،  بحفاظت  رہو،  میں آپ کو کوئی تکلیف نہیں پہنچاؤں گا، میں آپ کو کوئی اذیت نہیں دوں گا ، میں  آپ کی سلامتی چاہتا ہوں ، میں  آپ کی بھلائی چاہتا ہوں،   اس دنیا میں بھی  آپ کی سلامتی چاہتا ہوں  کہ آپ شرک سے محفوظ ہو جائیں،  شرک کی گندگی سے پاک ہوجائیں،   جہالت کے اندھیروں سے محفوظ ہوجائیں۔ اور مرنے کے بعد بھی آپ کی سلامتی چاہتا ہوں کہ آپ اللہ  خالق ومالک کے غضب  اور ناراضگی سے محفوظ ہوجائیں اور جہنم کے عذاب سے محفوظ ہوجائیں۔  میں دنیا اور آخرت ہرجگہ آپ کی سلامتی چاہتا ہوں۔

    یاد رہے کہ  ایمان والے دنیا کے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ سلامتی چاہتے ہیں،  سب سے زیادہ امن وچین  چاہتے ہیں ، ساری انسانیت کے  خیر خواہ ہوتے ہیں،  ساری انسانیت کی بھلائی چاہتے ہیں ۔

ابراہیم علیہ السلام نے اس کے بعد اپنے والد سے کہا کہ میں  اپنے رب سے آپ کے لیے معافی طلب کروں گا۔

غور کرنے کی چیز ہے کہ غلطی باپ کر رہا ہے اور بیٹا ان کی طرف سے  معافی کا طلب گار ہے۔

واضح رہے کہ کافروں کے لئے   بخشش ، معافی اور مغفرت کی دعا کرنا منع ہے ۔ قرآن کریم میں اس کا واضح اعلان موجود ہے۔   ابراہیم علیہ السلام نے  اپنے والد سے مغفرت کی دعا کرنے کا وعدہ کر لیا تھا، اس لیے وعدہ پورا کرتے ہوئے ان کے لئے مغفرت کی دعا فرمائی  لیکن معلوم رہے کہ  اللہ تعالی اس دعا کو قبول نہیں کرے گا کیونکہ اللہ سبحانہ  کا دوٹوک فیصلہ ہے کہ جو شخص بھی  کفر وشرک کرتے ہوئے مرے گا ،  چاہے وہ نبی کا باپ ہی کیوں نہ ہو ،  اس کی بخشش ہونے والی نہیں ہے،  اس کا ٹھکانہ جہنم ہے،  اس کا ٹھکانہ بھڑکتی ہوئی آگ ہے،  اس سے کسی کافر ومشرک  کو بچنا نہیں ہے۔

اللہ تبارک و تعالی اپنی ساری مہربانیاں، اپنا سارا رحم کرم ابراہیم علیہ السلام پر، ان کے چاہنے والوں پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے چاہنے والوں پر اور سارے ایمان والوں پر فرمائے ، دنیا میں بھی اپنا رحم و کرم فرمائے اور آخرت میں بھی اپنے فضل سے انہیں نوازے اور ان کے درجات کو بلند کرے  اور جو لوگ اس راستے پر نہیں ہیں،  جو لوگ  شیطان کے راستے پر ہیں،  اللہ تعالی انہیں بھی ہدایت  نصیب فرمائے اور انہیں بھی صحیح سوجھ بوجھ  عطا فرمائے تاکہ وہ اللہ کی اور اپنے پیدا کرنے والے کی صحیح پہچان کر کے اس کی عبادت کر سکیں اور اللہ کی رحمت  کے مستحق ہو جائیں۔  آمین و الحمدللہ رب العالمین  وصلی اللہ علی نبینا  وسلم۔

 



[1] یہ دراصل 2019 کا ایک خطاب ہے جو احساء اسلامک سینٹر ھفوف، سعودی عرب، میں ہوا اور سینٹر کے یوٹیوب چینل پر موجود ہے۔ بعد میں اسے تحریری صورت دی گئی ہے۔

الاثنين، 16 فبراير 2026

 

گداگری کی مذمت

الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله , أما بعد :

اللہ کی پاکیزہ شریعت دین اسلام میں جن اعمال واوصاف کی مذمت کی گئی ہے ان میں سے ایک گداگری ہے ۔ یعنی  بھیک مانگنا،  لوگوں سے ان کے مال یا دیگر سامان کا سوال کرنا ، لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانا ،  دست سوال دراز کرنا وغیرہ

واضح رہے کہ بلا ضرورت اور ناحق طور پر صرف اپنا مال بڑھانے کے لیے گداگری کرنا اور اسے بطور  پیشہ اپنانا انتہائی معیوب عمل اور  مذموم صفت ہے۔  بھکاری انسان خود کو دوسروں کے سامنے ذلیل ورسوا  کرتا ہے ۔  اسلام چاہتا ہے کہ ایک بندہ   اللہ کے سوا کسی اور کے سامنے خود کو ذلیل و پست نہ کرے۔ اللہ تعالی نے قران مجید میں ارشاد فرمایا :

لِلۡفُقَرَآءِ ٱلَّذِينَ أُحۡصِرُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ لَا يَسۡتَطِيعُونَ ضَرۡبٗا فِي ٱلۡأَرۡضِ يَحۡسَبُهُمُ ٱلۡجَاهِلُ أَغۡنِيَآءَ مِنَ ٱلتَّعَفُّفِ تَعۡرِفُهُم بِسِيمَٰهُمۡ لَا يَسۡـَٔلُونَ ٱلنَّاسَ إِلۡحَافٗاۗ وَمَا تُنفِقُواْ مِنۡ خَيۡرٖ فَإِنَّ ٱللَّهَ بِهِۦ عَلِيمٌ [البقرة: 273] 

صدقات کے مستحق صرف وہ غربا ہیں جو اللہ کی راہ میں روک دیئے گئے، جو ملک میں چل پھر نہیں سکتے ۔ نادان لوگ ان کی بے سوالی کی وجہ سے انہیں مالدار خیال کرتے ہیں، آپ ان کے چہرے دیکھ کر قیافہ سے انہیں پہچان لیں گے وہ لوگوں سے چمٹ کر سوال نہیں کرتے ۔ تم جو کچھ مال خرچ کرو تو اللہ تعالیٰ اس کا جاننے والا ہے۔

اس آیت میں  اللہ تعالی نے صدقات وخیرات کا مستحق ان افراد کو قرار دیا جو  فقیر و  محتاج   ہیں لیکن اللہ کی راہ میں محصور ومشغول ہونے کی بنا پر زمین میں ادھر ادھر چل پھر کر کے اور بھاگ دوڑ کرکے اپنا رزق  کما نہیں سکتے اور ایک نادان  حقیقی صورت حال کے برخلاف یہ سمجھتا ہے کہ وہ غنی  اور  دولت مند ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ پاکدامنی اختیار کرتے ہیں   اور  لوگوں سے اصرار کے ساتھ سوال نہیں کرتے۔  اللہ سبحانہ  نے مزید فرمایا کہ تم جو بھی مال اور خیر و بھلائی خرچ کرو  گے اللہ سب کا علم رکھتا ہے۔  

امام ابن کثیر رحمہ اللہ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہ لوگ سوال کرنے میں اصرار نہیں کرتے،  الحاح نہیں کرتے یعنی جس چیز کے حاجت مند نہیں ہوتے اس کا لوگوں کو مکلف نہیں کرتے۔  جو شخص کسی ایسی چیز کا سوال کرے جس کی اسے حاجت نہیں ہے،یعنی  جس سوال سے وہ بچ سکتا ہے پھر بھی اس طرح کا سوال کرے تو وہ سوال کرنے میں اصرار والحاح  اور الحاف  کا مرتکب ہے۔

 ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی  ایک حدیث ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

”لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ وَلَكِنْ الْمِسْكِينُ الَّذِي لَا يَجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ وَلَا يُفْطَنُ بِهِ فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ وَلَا يَقُومُ فَيَسْأَلُ النَّاسَ“۔ (صحیح بخاری /1478 ، و صحیح مسلم / 1039 )  

  ’’مسکین وہ نہیں جو لوگوں کا طواف کرتا پھرے اور ایک دولقمے یا ایک دوکھجوریں اسے ادھر اُدھر گردش کراتی رہیں، بلکہ مسکین وہ شخص ہے جو اس قدر مالداری نہ پائے جو اسے بے نیاز کردے اور کسی کو اس کاپتہ بھی نہ چل سکے کہ وہ اس پر صدقہ کرے اور نہ وہ کھڑا ہوکر لوگوں سے مانگتا ہی پھرے۔‘‘

حدیث سے معلوم ہوا کہ مسکین اور محتاج وہ نہیں ہے جو لوگوں کے گھروں کے چکر لگاتا ہے،  ایک لقمہ یا دو لقمہ پا کر لوٹ جاتا ہے،  ایک کھجور یا دو کھجور پا کے پھر نئے گھر کی تلاش میں چل پڑتا ہے،  یعنی در در کا بھکاری مسکین اور فقیر نہیں ہے۔ یہ سن کر  لوگوں نے اللہ کے نبی  سےسوال کیا کہ   پھر آخر مسکین ، حاجت مند ، ضرورت مند ، فقیر  اور غریب کون ہے؟  تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت فرمائی کہ مسکین  وہ شخص ہے  جس کو اس کی کفایت نہ مل سکے، اس کو اتنا مال و دولت میسر نہ ہو جس  سے اس کی ضرورتیں پوری ہو جائیں،  اورساتھ ہی معاملہ یہ ہو کہ  لوگ اس کی غریبی کو جان بھی نہ سکیں کہ کوئی اس پر صدقہ کر دے،  اور وہ لوگوں سے سوال بھی نہیں کرتا ،  لوگوں سے کچھ مانگتا نہیں اور لوگ  اس کی غریبی ومحتاجی کو سمجھتے بھی نہیں لہٰذا اسے صدقہ بھی نہیں دیتے۔   یعنی اس کی حالت یہ ہے کہ اس کی ضرورتیں پوری نہیں ہو پاتی اور کوئی اسے صدقہ بھی نہیں دیتا اور کسی دوسری طرح مدد بھی نہیں کرتا۔ معاشرے کے ایسے غریب لوگوں کا خیال رکھنے کی سخت ضرورت ہے۔

ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی  ایک اورحدیث ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

مَنْ سَأَلَ النَّاسَ أَمْوَالَهُمْ تَكَثُّرًا فَإِنَّمَا يَسْأَلُ جَمْرًا فَلْيَسْتَقِلَّ أَوْ لِيَسْتَكْثِرْ  “۔ (صحیح مسلم  / 1041 )

’’جو شخص مال بڑھانے کے لئے لوگوں سے ان کا مال مانگتا ہے وہ آگ کے انگارے مانگتا ہے، کم (اکھٹے) کر لے یا زیادہ کر لے۔‘‘

یعنی جو شخص لوگوں سے ان کا مال مانگے، گداگری کرے،  مقصد یہ ہو کہ اپنا مال بڑھا لے ، زیادہ دولت مند ہو جائے،  اسی مقصد سے لوگوں سے مانگتا پھرتا ہے تو  ایسا شخص آگ کا شعلہ مانگ رہا ہے ، آگ کا شعلہ جمع کر رہا ہے،  اب اس کی مرضی ہے چاہے تو زیادہ جمع کرے چاہے کم جمع کرے۔

امام ابو حامد الغزالی کہتے ہیں کہ سوال دراصل حرام ہے اور کسی ضرورت یا سخت حاجت کی بنا پر جو کہ ضرورت سے قریب ہو جائز قرار دیا گیا ہے،  کیونکہ اس میں اللہ تعالی سے ایک طرح کی شکایت ہے،  اور اس بات کا اعلان ہے کہ اللہ کی جو نعمتیں دوسروں کو میسر ہیں اس کے پاس اس کی کمی ہے،  اور اس کمی کی وجہ سے وہ دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلا رہا ہے، تو یہ بھی ایک طرح کی شکایت ہے۔ دوسری بات یہ ہے  کہ انسان گداگری کر کے خود کو غیر اللہ کے سامنے ذلیل اور پست کر تا ہے۔ تیسری خرابی گداگری میں  یہ ہے  کہ  جس بندے سے سوال کیا جا رہا ہے عام طور پر ان کی بھی ایذا رسانی اور تکلیف کا باعث ہوتا ہے۔ کبھی کبھی آدمی دینا نہیں چاہتا لیکن حیا اور شرم کی بنا پر یا دکھاوے کی بنا پر دے دیتا ہے اور ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں لینے والے کے لیے لینا حرام ہے۔  ابھی جو باتیں ذکر کی گئیں وہ ابو حامد الغزالی نے کہی ہیں۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک حدیث میں اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ مانگنا کس کے لیے حلال ہے، چنانچہ قبیصہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

”إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثَةٍ رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَهَا ثُمَّ يُمْسِكُ وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ اجْتَاحَتْ مَالَهُ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ قَالَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ حَتَّى يَقُومَ ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ لَقَدْ أَصَابَتْ فُلَانًا فَاقَةٌ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ قَالَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ فَمَا سِوَاهُنَّ مِنْ الْمَسْأَلَةِ يَا قَبِيصَةُ سُحْتًا يَأْكُلُهَا صَاحِبُهَا سُحْتًا “۔ (صحیح مسلم/ 1044 )

’’ تین قسم کے افراد میں سے کسی ایک کے سوا اور کسی کے لئے سوال کرنا جائز نہیں: ایک وہ آدمی جس نے کسی بڑی ادائیگی کی ذمہ داری قبول کر لی، اس کے لئے اس وقت تک سوال کرنا حلال ہو جاتا ہے حتیٰ کہ اس کو حاصل کر لے، اس کے بعد (سوال سے) رک جائے، دوسرا وہ آدمی جس پر کوئی آفت آ پڑی ہو جس نے اس کا مال تباہ کردیا ہو، اس کے لئے سوال کرنا حلال ہو جاتا ہے یہاں تک کہ وہ زندگی کی گزران درست کر لے۔ یا فرمایا: زندگی کی بقا کا سامان کرلے۔اور تیسرا وہ آدمی جو فاقے کا شکار ہو گیا، یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین عقلمند افراد کھڑے ہو جائیں (اور کہہ دیں) کہ فلاں آدمی فاقہ زدہ ہو گیا ہے تو اس کے لئے بھی مانگنا حلال ہو گیا یہاں تک کہ وہ درست گزران حاصل کرلے۔ یا فرمایا: زندگی باقی رکھنے جتنا حاصل کر لے ۔اے قبیصہ! ان صورتوں کے سوا سوال کرنا حرام ہے اور سوال کرنے والا حرام کھاتا ہے۔‘‘

یعنی صرف تین لوگوں کے لئے سوال کرنا حلال  ہے ، ایک وہ شخص جس نے کوئی بوجھ اٹھا لیا ہو ، بوجھ اٹھانے کا مطلب یہ ہے کہ  کسی کی قرض کی ادائیگی کی ذمہ داری خود پر لے لی ہو یا کسی سے غلطی سے خون ہو گیا اور اس کی دیت ادا کرنے کی ذمہ داری اس نے اٹھا لی ہو تو ان صورتوں میں جب اس نے کسی غیر کا بوجھ اپنے اوپر اٹھا لیا ہے تو  ظاہر ہے کہ اپنے ذاتی مال سے یہ بوجھ نہیں ادا کر سکتا ہے  بلکہ لوگوں سے سوال کر کے ہی یہ ذمہ داری پوری کرے گا  لہٰذا  ایسی صورت میں اس کے لیے سوال کرنا حلال ہے یہاں تک کہ ذمہ داری پوری کرنے کے لائق ہو جائے۔  لیکن یاد رہے کہ  جب ذمہ داری پوری ہو جائے تو پھر سوال کرنے سے رک جائے۔

 دوسرا شخص وہ ہے کہ جس پر کوئی آسمانی مصیبت آ پڑی جس کی وجہ سے اس کا مال برباد ہو گیا، جیسے آگ لگ گئی یا کسی قسم کی تباہی آگئی، یا اس نے کھیتی کی تھی لیکن کھیتیوں پر کوئی آفت آگئی،  کوئی طوفان آگیا یا کسی بھی طرح کی زمینی یا  آسمانی مصیبت آگئی جس کی بنا پر اس کا سارا مال تباہ  وبرباد ہو گیا ، ایسی صورت میں اس کے لیے سوال کرنا حلال ہے یہاں تک کہ وہ سامان گزارا حاصل کر لے۔

  تیسرا شخص جس کے لئے سوال کرنا حلال ہے وہ ہے  جو فاقہ زدہ ہو گیا،  یعنی مالدار تھا،  دولت مند تھا لیکن کسی بنا پر فقر و محتاجی کا شکار ہو گیا اور فاقہ کشی یعنی بھوکے رہنے کی نوبت آگئی تو ایسی صورت میں قوم کے تین عقلمند لوگ اس بات کی گواہی دیں کہ فلاں فاقہ کا شکار ہو گیا ہے ، اب اس کے لیے سوال کرنا حلال ہوگا یہاں تک کہ وہ سامان ضرورت پا جائے۔

 ان کے علاوہ  سوال وگداگری کی تمام صورتیں اور  مانگنے کی ساری شکلیں سب کے سب حرام ہیں۔  مانگنے کا عمل حرام ہے اور اس کی آمدنی کا استعمال حرام خوری ہے۔

سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

” إِنْ الْمَسْأَلَةَ كَدٌّ يَكُدُّ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ إِلَّا أَنْ يَسْأَلَ الرَّجُلُ سُلْطَانًا أَوْ فِي أَمْرٍ لَا بُدَّ مِنْهُ “۔ ( سنن ترمذی /  681 )  

’’مانگنا ایک زخم ہے جس سے آدمی اپنا چہرہ زخمی کر لیتا ہے، سوائے اس کے کہ آدمی حاکم سے مانگےيا کسی ایسے کام کے لیے مانگے جو ضروری اور ناگزیر ہو‘‘۔

یعنی سوال کرنے والا انسان اپنی شرم وحیا کی چادر اتار کر بے لباس ہوجاتا ہے اور  اپنی عزت و آبرو ضائع کرلیتا ہے  لیکن یاد رہے کہ وہ اگر   اپنے حاکم یا بادشاہ سے سوال کر رہا ہے یا کسی انتہائی مجبوری اور ضرورت میں سوال کر رہا ہے تو اس کا معاملہ مختلف ہے۔

 امام سلمان  فرماتے ہیں کہ جہاں تک حاکم اور بادشاہ سے سوال کرنے کی بات ہے تو اس میں کوئی ملامت اور مذمت نہیں ہے اس لیے کہ بیت المال میں تمام لوگوں کا حق ہے۔   اسی طرح   اگر بادشاہ اپنی رعایا کو دیتا ہے، ان پر خرچ کرتا ہے، تو اس میں مانگنے والے پر اس کا کوئی احسان نہیں ہے کیونکہ وہ وکیل ہے، بیت المال کے مال کا مالک نہیں بلکہ امین ہے۔  مال کو اپنی رعایا میں تقسیم کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔   جیسے ایک انسان اپنے وکیل سے اپنا حق طلب کرتا ہے اسی طرح اگر  کوئی حاکم سے طلب کرتا ہے تو وہ اپنا ہی حق مانگ رہا ہے، اس لیے اس میں کوئی ملامت اور مذمت کی بات نہیں ہے۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی بھی وضاحت فرما دی ہے کہ آدمی کے پاس کتنا مال ومتاع  اور کتنا سازوسامان ہو تو اس کے لیے سوال کرنا حرام ہوتا ہے، چنانچہ مسند احمد کی حدیث ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

" إِنَّهُ مَنْ سَأَلَ وَعِنْدَهُ مَا يُغْنِيهِ، فَإِنَّمَا يَسْتَكْثِرُ مِنْ جَمْرِ جَهَنَّمَ ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا يُغْنِيهِ؟ قَالَ: " مَا يُغَدِّيهِ أَوْ يُعَشِّيهِ ".

”جو شخص سوال کرے  حالانکہ اس کے پاس اتنا موجود ہو جس سے اس کی ضرورت پوری ہوسکتی ہے، تو وہ جہنم کے انگاروں میں اضافہ کرتا ہے، صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا :یا رسول اللہ! ضرورت  پوری کرنے والی چیز سے کیا مراد ہے؟ فرمایا : کھانا     ۔“

 یعنی اگر  کسی شخص  کے پاس صبح یا شام کسی ایک وقت کے کھانے کا انتظام  ہے تو پھر وہ دولت مند ہے ، اسے سوال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔  اس  حدیث کی سند کو محققین نے صحیح قرار دیا ہے۔

 اسی طرح سے صحیح بخاری کی ایک  حدیث ہے  جو زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«"لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلَهُ فَيَأْتِيَ بِحُزْمَةِ الْحَطَبِ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهَا فَيَكُفَّ اللَّهُ بِهَا وَجْهَهُ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ أَعْطَوْه ‌أَوْ ‌مَنَعُوهُ".»«صحيح البخاري / 1471 »

تم میں سے کوئی رسی لے اور لکڑیوں کا گٹھا اپنی پشت پر لاد کر لائے اور اسے فروخت کرے۔ اللہ تعالیٰ اس وجہ سے اس کے چہرے کو سوال سے بچائے تو یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے مانگتا پھرے، وہ اسے دیں یا نہ دیں۔‘‘

یعنی ایک آدمی اپنی رسی لے اور جا کر کے اپنی پیٹھ پر لکڑیوں کا بوجھ ڈھوئے اور اس کی تجارت کرے،  اسے بیچے اور اس طرح سے اپنی عزت و آبرو کی اور اپنے چہرے کے پانی کی حفاظت کرے،  یہ اس سے کہیں بہتر ہے کہ لوگوں سے سوال کرتا پھرے، لوگوں سے بھیک مانگتا پھرے،  لوگ اسے دیں یا نہ دیں۔ کوئی دے رہا ہے، کوئی نہیں دے رہا ہے، انسان خود کو لوگوں کے سامنے ذلیل  وخوارکررہا ہے۔  اس سے بہتر ہے کہ محنت و مشقت کرے اور اس کے ذریعے سے اپنا رزق حاصل کرے۔

 اسی طرح سے  ایک اور حدیث  ہے  جس میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :

”وَلَا فَتَحَ عَبْدٌ ‌بَابَ ‌مَسْأَلَةٍ إِلَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ بَابَ فَقْرٍ“( سنن ترمذی/ 2325) 

(اگر کوئی شخص اپنے کے لیے سوال کا دروازہ کھولتا ہے تو اللہ اس کے لیے فقرومحتاجی کا دروازہ کھول دیتا ہے)۔

یعنی جب کوئی بندہ اپنے لیے سوال  اور گداگری کے دروازے کھول دیتا ہے ، لوگوں سے مانگنے لگ جاتا ہے تو پھر اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ  اس کے سامنے فقر و محتاجی کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ پھر اس کی ضروریات ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی، اور وہ ہمیشہ کے لئے بھکاری بن جاتا ہے۔

اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کی تربیت اس طور  پر کی تھی  کہ وہ گدا گری سے نفرت کریں اور محنت و مشقت کر کے اپنا رزق حاصل کریں ۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنے صحابہ کو یہ نصیحت کی تھی کہ وہ لوگوں سے دنیاوی ساز و سامان اور مال و متاع طلب نہ کیا کریں۔  چنانچہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حکیم ابن حزام رضی اللہ عنہ کی روایت ہے:

”سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ قَالَ يَا حَكِيمُ إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَى قَالَ حَكِيمٌ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَرْزَأُ أَحَدًا بَعْدَكَ شَيْئًا حَتَّى أُفَارِقَ الدُّنْيَا“

حکیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ سے کچھ مانگا تو آپ نے مجھے دے دیا، میں نے پھر مانگا تو بھی آپ نے مجھے دے دیا، میں نے پھر مانگا تو آپ نے مجھے پھر بھی دے دیا اور اس کے بعد فرمایا:’’حکیم! یہ مال سبزوشریں ہے۔ جو شخص اس کو سخاوت نفس کے ساتھ لیتا ہے اسے برکت عطا ہوتی ہے۔ اور جوطمع کے ساتھ لیتا ہے۔ اس کواس میں برکت نہیں دی جاتی اور ایسا آدمی اس شخص کی طرح ہوتا ہے جو کھاتا تو ہے مگر سیر نہیں ہوتا، نیز اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔‘‘ حکیم  رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:میں نے عرض کیا:اللہ کے رسول ﷺ !اس ذات کی قسم جس نے آپ کوحق دے کر بھیجا ہے!میں آپ کے بعد کسی سے کچھ نہیں مانگوں گا یہاں تک کہ دنیا سے چلاجاؤں۔

چنانچہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حکیم رضی اللہ عنہ کو عطیہ دینے کے لیے بلاتے تھے تو وہ قبول کرنے سے منع کرتے تھے ، کہتے تھے مجھے قبول نہیں ہے، مجھے نہیں چاہیے۔  ایسے ہی عمر رضی اللہ عنہ بھی انہیں عطیہ دینے کے لیے بلاتے تھے تو وہ قبول نہیں کیا کرتے تھے۔  عمر رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کو گواہ بنا کر کے کہا کہ اے مسلمانو! میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں حکیم کومال غنیمت میں ان کا حق دے رہا ہوں ، بیت المال سے ان کا حق دے رہا ہوں لیکن وہ لینے سے انکار کر رہے ہیں۔

چنانچہ  حکیم رضی اللہ عنہ نے  اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے کئے وعدے کے مطابق کسی سے کسی چیز کا  کبھی مطالبہ نہیں کیا  یہاں تک کہ وفات ہو گئی۔

 تو یہ ایک مثال ہے کہ اللہ کے  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنے صحابہ کی تربیت  کس طرح کی تھی  کہ  صحابۂ کرام  گداگری سے بہت دور رہا کرتے تھے۔

آج بڑی افسوسناک صورت حال ہے کہ بہت سارے لوگ گداگری کو سب سے آسان ذریعۂ معاش تصور کرتے ہیں، محنت ومشقت کے بجائے تن آسانی اور مفت خوری کو پسند کرتے ہیں۔  

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولائے کریم  گداگری کی تمام صورتوں سے ہماری حفاظت فرمائے اور ہمیں اپنے فضل وکرم سے رزق حلال سے  نوازے اور اپنی برکتوں سے  مالامال فرمائے۔  آمین

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين وصلى الله على نبينا وسلم.

(اعداد : عبدالہادی عبدالخالق مدنی)