گداگری کی مذمت
الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله , أما
بعد :
اللہ کی پاکیزہ شریعت دین اسلام میں جن اعمال واوصاف کی
مذمت کی گئی ہے ان میں سے ایک گداگری ہے ۔ یعنی بھیک مانگنا، لوگوں سے ان کے مال یا دیگر سامان کا سوال کرنا ،
لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلانا ، دست سوال
دراز کرنا وغیرہ
واضح رہے کہ بلا ضرورت اور ناحق طور پر صرف اپنا مال بڑھانے
کے لیے گداگری کرنا اور اسے بطور پیشہ اپنانا
انتہائی معیوب عمل اور مذموم صفت ہے۔ بھکاری انسان خود کو دوسروں کے سامنے ذلیل ورسوا
کرتا ہے ۔ اسلام چاہتا ہے کہ ایک بندہ اللہ
کے سوا کسی اور کے سامنے خود کو ذلیل و پست نہ کرے۔ اللہ تعالی نے قران مجید میں
ارشاد فرمایا :
لِلۡفُقَرَآءِ ٱلَّذِينَ أُحۡصِرُواْ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِ لَا يَسۡتَطِيعُونَ ضَرۡبٗا فِي ٱلۡأَرۡضِ يَحۡسَبُهُمُ ٱلۡجَاهِلُ أَغۡنِيَآءَ مِنَ ٱلتَّعَفُّفِ تَعۡرِفُهُم بِسِيمَٰهُمۡ لَا يَسۡـَٔلُونَ ٱلنَّاسَ إِلۡحَافٗاۗ وَمَا تُنفِقُواْ مِنۡ خَيۡرٖ فَإِنَّ ٱللَّهَ بِهِۦ عَلِيمٌ [البقرة: 273]
صدقات کے مستحق صرف وہ غربا ہیں جو اللہ کی راہ میں روک دیئے
گئے، جو ملک میں چل پھر نہیں سکتے ۔ نادان لوگ ان کی بے سوالی کی وجہ سے انہیں
مالدار خیال کرتے ہیں، آپ ان کے چہرے دیکھ کر قیافہ سے انہیں پہچان لیں گے وہ
لوگوں سے چمٹ کر سوال نہیں کرتے ۔ تم جو کچھ مال خرچ کرو تو اللہ تعالیٰ اس کا
جاننے والا ہے۔
اس آیت میں اللہ
تعالی نے صدقات وخیرات کا مستحق ان افراد کو قرار دیا جو فقیر و محتاج
ہیں لیکن اللہ کی راہ میں محصور ومشغول ہونے کی بنا پر زمین میں ادھر ادھر
چل پھر کر کے اور بھاگ دوڑ کرکے اپنا رزق
کما نہیں سکتے اور ایک نادان حقیقی
صورت حال کے برخلاف یہ سمجھتا ہے کہ وہ غنی
اور دولت مند ہیں، اس کی وجہ یہ ہے
کہ وہ پاکدامنی اختیار کرتے ہیں اور لوگوں سے اصرار کے ساتھ سوال نہیں کرتے۔ اللہ سبحانہ نے مزید فرمایا کہ تم جو بھی مال اور خیر و
بھلائی خرچ کرو گے اللہ سب کا علم رکھتا
ہے۔
امام ابن کثیر رحمہ اللہ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہ
لوگ سوال کرنے میں اصرار نہیں کرتے، الحاح
نہیں کرتے یعنی جس چیز کے حاجت مند نہیں ہوتے اس کا لوگوں کو مکلف نہیں کرتے۔ جو شخص کسی ایسی چیز کا سوال کرے جس کی اسے حاجت
نہیں ہے،یعنی جس سوال سے وہ بچ سکتا ہے پھر
بھی اس طرح کا سوال کرے تو وہ سوال کرنے میں اصرار والحاح اور الحاف کا مرتکب ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ
عنہ کی ایک حدیث ہے کہ اللہ کے نبی صلی
اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
”لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ تَرُدُّهُ
اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ وَلَكِنْ
الْمِسْكِينُ الَّذِي لَا يَجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ وَلَا يُفْطَنُ بِهِ
فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ وَلَا يَقُومُ فَيَسْأَلُ النَّاسَ“۔ (صحیح بخاری /1478 ، و صحیح مسلم / 1039 )
’’مسکین وہ نہیں جو لوگوں کا طواف کرتا پھرے اور ایک دولقمے یا ایک دوکھجوریں
اسے ادھر اُدھر گردش کراتی رہیں، بلکہ مسکین وہ شخص ہے جو اس قدر مالداری نہ پائے
جو اسے بے نیاز کردے اور کسی کو اس کاپتہ بھی نہ چل سکے کہ وہ اس پر صدقہ کرے اور
نہ وہ کھڑا ہوکر لوگوں سے مانگتا ہی پھرے۔‘‘
حدیث سے معلوم ہوا کہ مسکین اور محتاج وہ نہیں ہے جو لوگوں
کے گھروں کے چکر لگاتا ہے، ایک لقمہ یا دو
لقمہ پا کر لوٹ جاتا ہے، ایک کھجور یا دو
کھجور پا کے پھر نئے گھر کی تلاش میں چل پڑتا ہے، یعنی در در کا بھکاری مسکین اور فقیر نہیں ہے۔ یہ
سن کر لوگوں نے اللہ کے نبی سےسوال کیا کہ
پھر آخر مسکین ، حاجت مند ، ضرورت
مند ، فقیر اور غریب کون ہے؟ تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت
فرمائی کہ مسکین وہ شخص ہے جس کو اس کی کفایت نہ مل سکے، اس کو اتنا مال و
دولت میسر نہ ہو جس سے اس کی ضرورتیں پوری
ہو جائیں، اورساتھ ہی معاملہ یہ ہو کہ لوگ اس کی غریبی کو جان بھی نہ سکیں کہ کوئی اس
پر صدقہ کر دے، اور وہ لوگوں سے سوال بھی
نہیں کرتا ، لوگوں سے کچھ مانگتا نہیں اور
لوگ اس کی غریبی ومحتاجی کو سمجھتے بھی
نہیں لہٰذا اسے صدقہ بھی نہیں دیتے۔ یعنی اس کی حالت یہ ہے کہ اس کی ضرورتیں پوری
نہیں ہو پاتی اور کوئی اسے صدقہ بھی نہیں دیتا اور کسی دوسری طرح مدد بھی نہیں
کرتا۔ معاشرے کے ایسے غریب لوگوں کا خیال رکھنے کی سخت ضرورت ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک اورحدیث ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وعلی
آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
”مَنْ
سَأَلَ النَّاسَ أَمْوَالَهُمْ تَكَثُّرًا فَإِنَّمَا يَسْأَلُ جَمْرًا
فَلْيَسْتَقِلَّ أَوْ لِيَسْتَكْثِرْ “۔ (صحیح مسلم /
1041 )
’’جو شخص مال بڑھانے کے لئے لوگوں سے ان
کا مال مانگتا ہے وہ آگ کے انگارے مانگتا ہے، کم (اکھٹے) کر لے یا زیادہ کر لے۔‘‘
یعنی جو شخص لوگوں سے ان کا مال مانگے، گداگری کرے، مقصد یہ ہو کہ اپنا مال بڑھا لے ، زیادہ دولت
مند ہو جائے، اسی مقصد سے لوگوں سے مانگتا
پھرتا ہے تو ایسا شخص آگ کا شعلہ مانگ رہا
ہے ، آگ کا شعلہ جمع کر رہا ہے، اب اس کی
مرضی ہے چاہے تو زیادہ جمع کرے چاہے کم جمع کرے۔
امام ابو حامد الغزالی کہتے ہیں کہ سوال دراصل حرام ہے اور
کسی ضرورت یا سخت حاجت کی بنا پر جو کہ ضرورت سے قریب ہو جائز قرار دیا گیا ہے، کیونکہ اس میں اللہ تعالی سے ایک طرح کی شکایت
ہے، اور اس بات کا اعلان ہے کہ اللہ کی جو
نعمتیں دوسروں کو میسر ہیں اس کے پاس اس کی کمی ہے، اور اس کمی کی وجہ سے وہ دوسروں کے آگے ہاتھ
پھیلا رہا ہے، تو یہ بھی ایک طرح کی شکایت ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ انسان گداگری کر کے خود کو غیر اللہ کے
سامنے ذلیل اور پست کر تا ہے۔ تیسری خرابی گداگری میں یہ ہے
کہ جس بندے سے سوال کیا جا رہا ہے
عام طور پر ان کی بھی ایذا رسانی اور تکلیف کا باعث ہوتا ہے۔ کبھی کبھی آدمی دینا
نہیں چاہتا لیکن حیا اور شرم کی بنا پر یا دکھاوے کی بنا پر دے دیتا ہے اور ظاہر
ہے کہ ایسی صورت میں لینے والے کے لیے لینا حرام ہے۔ ابھی جو باتیں ذکر کی گئیں وہ ابو حامد الغزالی
نے کہی ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک حدیث میں اس بات
کی وضاحت فرمائی ہے کہ مانگنا کس کے لیے حلال ہے، چنانچہ قبیصہ رضی اللہ عنہ
فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
”إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثَةٍ رَجُلٍ
تَحَمَّلَ حَمَالَةً فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَهَا ثُمَّ
يُمْسِكُ وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ اجْتَاحَتْ مَالَهُ فَحَلَّتْ لَهُ
الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ قَالَ سِدَادًا مِنْ
عَيْشٍ وَرَجُلٌ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ حَتَّى يَقُومَ ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِي
الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ لَقَدْ أَصَابَتْ فُلَانًا فَاقَةٌ فَحَلَّتْ لَهُ
الْمَسْأَلَةُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ قَالَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ
فَمَا سِوَاهُنَّ مِنْ الْمَسْأَلَةِ يَا قَبِيصَةُ سُحْتًا يَأْكُلُهَا
صَاحِبُهَا سُحْتًا “۔ (صحیح مسلم/ 1044 )
’’
تین قسم کے افراد میں سے کسی ایک کے سوا اور کسی کے لئے سوال کرنا جائز نہیں: ایک
وہ آدمی جس نے کسی بڑی ادائیگی کی ذمہ داری قبول کر لی، اس کے لئے اس وقت تک سوال
کرنا حلال ہو جاتا ہے حتیٰ کہ اس کو حاصل کر لے، اس کے بعد (سوال سے) رک جائے،
دوسرا وہ آدمی جس پر کوئی آفت آ پڑی ہو جس نے اس کا مال تباہ کردیا ہو، اس کے لئے
سوال کرنا حلال ہو جاتا ہے یہاں تک کہ وہ زندگی کی گزران درست کر لے۔ یا فرمایا:
زندگی کی بقا کا سامان کرلے۔اور تیسرا وہ آدمی جو فاقے کا شکار ہو گیا، یہاں تک کہ
اس کی قوم کے تین عقلمند افراد کھڑے ہو جائیں (اور کہہ دیں) کہ فلاں آدمی فاقہ زدہ
ہو گیا ہے تو اس کے لئے بھی مانگنا حلال ہو گیا یہاں تک کہ وہ درست گزران حاصل
کرلے۔ یا فرمایا: زندگی باقی رکھنے جتنا حاصل کر لے ۔اے قبیصہ! ان صورتوں کے سوا
سوال کرنا حرام ہے اور سوال کرنے والا حرام کھاتا ہے۔‘‘
یعنی صرف تین لوگوں کے لئے سوال کرنا حلال ہے ، ایک وہ شخص جس نے کوئی بوجھ اٹھا لیا ہو ،
بوجھ اٹھانے کا مطلب یہ ہے کہ کسی کی قرض
کی ادائیگی کی ذمہ داری خود پر لے لی ہو یا کسی سے غلطی سے خون ہو گیا اور اس کی
دیت ادا کرنے کی ذمہ داری اس نے اٹھا لی ہو تو ان صورتوں میں جب اس نے کسی غیر کا
بوجھ اپنے اوپر اٹھا لیا ہے تو ظاہر ہے کہ
اپنے ذاتی مال سے یہ بوجھ نہیں ادا کر سکتا ہے بلکہ لوگوں سے سوال کر کے ہی یہ ذمہ داری پوری
کرے گا لہٰذا ایسی صورت میں اس کے لیے سوال کرنا حلال ہے یہاں
تک کہ ذمہ داری پوری کرنے کے لائق ہو جائے۔ لیکن یاد رہے کہ جب ذمہ داری پوری ہو جائے تو پھر سوال کرنے سے
رک جائے۔
دوسرا شخص وہ ہے کہ
جس پر کوئی آسمانی مصیبت آ پڑی جس کی وجہ سے اس کا مال برباد ہو گیا، جیسے آگ لگ
گئی یا کسی قسم کی تباہی آگئی، یا اس نے کھیتی کی تھی لیکن کھیتیوں پر کوئی آفت آگئی،
کوئی طوفان آگیا یا کسی بھی طرح کی زمینی
یا آسمانی مصیبت آگئی جس کی بنا پر اس کا
سارا مال تباہ وبرباد ہو گیا ، ایسی صورت
میں اس کے لیے سوال کرنا حلال ہے یہاں تک کہ وہ سامان گزارا حاصل کر لے۔
تیسرا شخص جس کے
لئے سوال کرنا حلال ہے وہ ہے جو فاقہ زدہ
ہو گیا، یعنی مالدار تھا، دولت مند تھا لیکن کسی بنا پر فقر و محتاجی کا
شکار ہو گیا اور فاقہ کشی یعنی بھوکے رہنے کی نوبت آگئی تو ایسی صورت میں قوم کے
تین عقلمند لوگ اس بات کی گواہی دیں کہ فلاں فاقہ کا شکار ہو گیا ہے ، اب اس کے
لیے سوال کرنا حلال ہوگا یہاں تک کہ وہ سامان ضرورت پا جائے۔
ان کے علاوہ سوال وگداگری کی تمام صورتیں اور مانگنے کی ساری شکلیں سب کے سب حرام ہیں۔ مانگنے کا عمل حرام ہے اور اس کی آمدنی کا
استعمال حرام خوری ہے۔
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
” إِنْ الْمَسْأَلَةَ كَدٌّ يَكُدُّ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ إِلَّا
أَنْ يَسْأَلَ الرَّجُلُ سُلْطَانًا أَوْ فِي أَمْرٍ لَا بُدَّ مِنْهُ “۔ ( سنن ترمذی
/ 681 )
’’مانگنا ایک زخم ہے جس سے آدمی اپنا چہرہ زخمی کر لیتا ہے، سوائے اس کے کہ
آدمی حاکم سے مانگےيا کسی ایسے کام کے لیے مانگے جو ضروری اور ناگزیر ہو‘‘۔
یعنی سوال کرنے والا انسان اپنی شرم وحیا کی چادر اتار کر
بے لباس ہوجاتا ہے اور اپنی عزت و آبرو
ضائع کرلیتا ہے لیکن یاد رہے کہ وہ اگر اپنے حاکم
یا بادشاہ سے سوال کر رہا ہے یا کسی انتہائی مجبوری اور ضرورت میں سوال کر رہا ہے
تو اس کا معاملہ مختلف ہے۔
امام سلمان فرماتے ہیں کہ جہاں تک حاکم اور بادشاہ سے سوال
کرنے کی بات ہے تو اس میں کوئی ملامت اور مذمت نہیں ہے اس لیے کہ بیت المال میں
تمام لوگوں کا حق ہے۔ اسی طرح اگر
بادشاہ اپنی رعایا کو دیتا ہے، ان پر خرچ کرتا ہے، تو اس میں مانگنے والے پر اس کا
کوئی احسان نہیں ہے کیونکہ وہ وکیل ہے، بیت المال کے مال کا مالک نہیں بلکہ امین
ہے۔ مال کو اپنی رعایا میں تقسیم کرنا اس کی
ذمہ داری ہے۔ جیسے ایک انسان اپنے وکیل
سے اپنا حق طلب کرتا ہے اسی طرح اگر کوئی حاکم
سے طلب کرتا ہے تو وہ اپنا ہی حق مانگ رہا ہے، اس لیے اس میں کوئی ملامت اور مذمت
کی بات نہیں ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی بھی وضاحت
فرما دی ہے کہ آدمی کے پاس کتنا مال ومتاع
اور کتنا سازوسامان ہو تو اس کے لیے سوال کرنا حرام ہوتا ہے، چنانچہ مسند
احمد کی حدیث ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
" إِنَّهُ مَنْ سَأَلَ وَعِنْدَهُ مَا يُغْنِيهِ، فَإِنَّمَا
يَسْتَكْثِرُ مِنْ جَمْرِ جَهَنَّمَ ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا
يُغْنِيهِ؟ قَالَ: " مَا يُغَدِّيهِ أَوْ يُعَشِّيهِ ".
”جو شخص سوال کرے حالانکہ اس کے پاس اتنا موجود ہو جس سے اس کی
ضرورت پوری ہوسکتی ہے، تو وہ جہنم کے انگاروں میں اضافہ کرتا ہے، صحابہ رضی اللہ
عنہم نے پوچھا :یا رسول اللہ! ضرورت پوری
کرنے والی چیز سے کیا مراد ہے؟ فرمایا : کھانا
۔“
یعنی اگر کسی شخص کے پاس صبح یا شام کسی ایک وقت کے کھانے کا
انتظام ہے تو پھر وہ دولت مند ہے ، اسے
سوال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اس حدیث کی سند کو محققین نے صحیح قرار دیا ہے۔
اسی طرح سے صحیح
بخاری کی ایک حدیث ہے جو زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ
کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«"لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلَهُ
فَيَأْتِيَ بِحُزْمَةِ الْحَطَبِ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهَا فَيَكُفَّ اللَّهُ
بِهَا وَجْهَهُ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ أَعْطَوْه أَوْ مَنَعُوهُ".»«صحيح
البخاري / 1471 »
” تم
میں سے کوئی رسی لے اور لکڑیوں کا گٹھا اپنی پشت پر لاد کر لائے اور اسے فروخت
کرے۔ اللہ تعالیٰ اس وجہ سے اس کے چہرے کو سوال سے بچائے تو یہ اس کے لیے اس سے
بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے مانگتا پھرے، وہ اسے دیں یا نہ دیں۔‘‘
یعنی ایک آدمی اپنی رسی لے اور جا کر کے اپنی پیٹھ پر
لکڑیوں کا بوجھ ڈھوئے اور اس کی تجارت کرے، اسے بیچے اور اس طرح سے اپنی عزت و آبرو کی اور
اپنے چہرے کے پانی کی حفاظت کرے، یہ اس سے
کہیں بہتر ہے کہ لوگوں سے سوال کرتا پھرے، لوگوں سے بھیک مانگتا پھرے، لوگ اسے دیں یا نہ دیں۔ کوئی دے رہا ہے، کوئی
نہیں دے رہا ہے، انسان خود کو لوگوں کے سامنے ذلیل وخوارکررہا ہے۔ اس سے بہتر ہے کہ محنت و مشقت کرے اور اس کے
ذریعے سے اپنا رزق حاصل کرے۔
اسی طرح سے ایک اور حدیث
ہے جس میں اللہ کے نبی صلی اللہ
علیہ وسلم نے فرمایا ہے :
”وَلَا فَتَحَ عَبْدٌ بَابَ مَسْأَلَةٍ إِلَّا فَتَحَ اللَّهُ
عَلَيْهِ بَابَ فَقْرٍ“( سنن ترمذی/
2325)
(اگر کوئی شخص اپنے کے لیے سوال کا دروازہ کھولتا ہے تو
اللہ اس کے لیے فقرومحتاجی کا دروازہ کھول دیتا ہے)۔
یعنی جب کوئی بندہ اپنے لیے سوال اور گداگری کے دروازے کھول دیتا ہے ، لوگوں سے
مانگنے لگ جاتا ہے تو پھر اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے سامنے فقر و محتاجی کا دروازہ کھل جاتا
ہے۔ پھر اس کی ضروریات ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی، اور وہ ہمیشہ کے لئے بھکاری
بن جاتا ہے۔
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کی تربیت اس طور
پر کی تھی کہ وہ گدا گری سے نفرت کریں اور محنت و مشقت کر
کے اپنا رزق حاصل کریں ۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو یہ نصیحت کی تھی کہ وہ لوگوں
سے دنیاوی ساز و سامان اور مال و متاع طلب نہ کیا کریں۔ چنانچہ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حکیم ابن
حزام رضی اللہ عنہ کی روایت ہے:
”سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ
قَالَ يَا حَكِيمُ إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ فَمَنْ أَخَذَهُ
بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ
يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ الْيَدُ الْعُلْيَا
خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَى قَالَ حَكِيمٌ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ
وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَرْزَأُ أَحَدًا بَعْدَكَ شَيْئًا حَتَّى
أُفَارِقَ الدُّنْيَا“
حکیم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ
سے کچھ مانگا تو آپ نے مجھے دے دیا، میں نے پھر مانگا تو بھی آپ نے مجھے دے دیا،
میں نے پھر مانگا تو آپ نے مجھے پھر بھی دے دیا اور اس کے بعد فرمایا:’’حکیم! یہ
مال سبزوشریں ہے۔ جو شخص اس کو سخاوت نفس کے ساتھ لیتا ہے اسے برکت عطا ہوتی ہے۔
اور جوطمع کے ساتھ لیتا ہے۔ اس کواس میں برکت نہیں دی جاتی اور ایسا آدمی اس شخص
کی طرح ہوتا ہے جو کھاتا تو ہے مگر سیر نہیں ہوتا، نیز اوپر والا ہاتھ نیچے والے
ہاتھ سے بہتر ہے۔‘‘ حکیم رضی اللہ عنہ کہتے
ہیں:میں نے عرض کیا:اللہ کے رسول ﷺ !اس ذات کی قسم جس نے آپ کوحق دے کر بھیجا
ہے!میں آپ کے بعد کسی سے کچھ نہیں مانگوں گا یہاں تک کہ دنیا سے چلاجاؤں۔
چنانچہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ حکیم رضی اللہ عنہ کو عطیہ
دینے کے لیے بلاتے تھے تو وہ قبول کرنے سے منع کرتے تھے ، کہتے تھے مجھے قبول نہیں
ہے، مجھے نہیں چاہیے۔ ایسے ہی عمر رضی
اللہ عنہ بھی انہیں عطیہ دینے کے لیے بلاتے تھے تو وہ قبول نہیں کیا کرتے تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کو گواہ بنا کر کے
کہا کہ اے مسلمانو! میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں حکیم کومال غنیمت میں ان کا
حق دے رہا ہوں ، بیت المال سے ان کا حق دے رہا ہوں لیکن وہ لینے سے انکار کر رہے
ہیں۔
چنانچہ حکیم رضی
اللہ عنہ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ
وسلم سے اپنے کئے وعدے کے مطابق کسی سے کسی چیز کا کبھی مطالبہ نہیں کیا یہاں تک کہ وفات ہو گئی۔
تو یہ ایک مثال ہے
کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کی تربیت کس طرح کی تھی
کہ صحابۂ کرام گداگری سے بہت دور رہا کرتے تھے۔
آج بڑی افسوسناک صورت حال ہے کہ بہت سارے لوگ گداگری کو سب
سے آسان ذریعۂ معاش تصور کرتے ہیں، محنت ومشقت کے بجائے تن آسانی اور مفت خوری کو
پسند کرتے ہیں۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولائے کریم گداگری کی تمام صورتوں سے ہماری حفاظت فرمائے
اور ہمیں اپنے فضل وکرم سے رزق حلال سے
نوازے اور اپنی برکتوں سے مالامال
فرمائے۔ آمین
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين وصلى الله
على نبينا وسلم.
(اعداد : عبدالہادی
عبدالخالق مدنی)