الخميس، 22 يناير 2026

 

 

محرمات يوم الجمعة

جمعہ کے دن کی ممنوعات ومحرمات

          جمعہ کے دن بعض چیزیں حرام ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں:

          ۱۔ دوسری اذان ہوجانے کے بعد خرید وفروخت کرنا۔ اﷲ عزوجل کا ارشاد ہے: یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلاَۃِ مِن یَّوْمِ الْجُمُعَۃِ فَاسْعَوْا إِلَیٰ ذِکْرِ اللهِ وَذَرُوا الْبَیْعَ ذَالِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ إِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (الجمعہ؍۹)[اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو ! جمعہ کے دن صلاۃ کے لئے اذان دی جائے تو تم اﷲ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو اور خرید و فروخت چھوڑدو ۔ یہ تمھارے حق میں بہت ہی بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔]

          ۲۔ لوگوں کی گردنیں پھلانگنا اور دو شخصوں کے درمیان تفریق کرنا۔ عبد اﷲ بن بسر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ایک شخص لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے آیا اس حال میں کہ نبی ﷺ خطبہ دے رہے تھے تو رسول اﷲ ﷺ نے اس سے فرمایا: ’’بیٹھ جا تونے تکلیف دی اور دیر سے پہنچا‘‘۔  (ابوداؤد، صحیح نسائی، احمد)

          ۳۔  اپنے کسی مسلمان بھائی کو اس کی نشست سے اٹھا کر خود اس کی جگہ بیٹھ جانا۔ عبد اﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما  فرماتے ہیں : نبی ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص اپنے (مسلمان) بھائی کو اس کی نشست سے اٹھادے اور خود اس کی جگہ بیٹھ جائے ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام نافع رحمہ اﷲ سے پوچھا گیا: جمعہ میں؟ آپ نے فرمایا: جمعہ میں اور اس کے علاوہ میں بھی ۔ (صحیح بخاری)

          ۴۔ صلاۃ جمعہ سے پہلے مسجد میں حلقے بناکے بیٹھنا۔ عمرو بن شعیب اپنے باپ سے ، وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے منع فرمایا ہے مسجد میں خرید وفروخت کرنے سے ، کسی گمشدہ چیز کا اعلان کرنے سے ، (فحش اور لغو) شعر پڑھنے سے نیز صلاۃ جمعہ سے پہلے حلقہ بناکر بیٹھنے سے بھی منع فرمایا ہے۔ (ابوداود)

          ۵۔ خطبۂ جمعہ کے اندر امام اور مقتدی کا ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا سوائے استسقاء کے جیسا کہ انس بن مالک صنے نبی ﷺ سے روایت کی ہے (صحیح بخاری) نبی ﷺ سے ثابت ہے کہ جب آپ نے خطبۂ جمعہ کے اندر استسقاء کی دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے تو لوگوں نے بھی اپنے ہاتھ اٹھائے۔ (صحیح بخاری)

          ۶۔ تنہا جمعہ کے دن صوم رکھنا اور صرف اسی کی رات قیام کرنا۔ نبی ﷺ کا ارشاد ہے: جمعہ کی رات کو قیام (تہجد) کے لئے خاص نہ کرو اورتمام دنوں کے درمیان میں سے  جمعہ کے دن کو صیام کے لئے مخصوص نہ کروسوائے اس صورت کے کہ کوئی ایسا صوم پڑجائے جسے تم رکھا کرتے تھے۔ (صحیح مسلم)نیز ارشاد ہے: تم میں سے کوئی جمعہ کے دن (خصوصی طور پر) ہرگز صوم نہ رکھے سوائے اس صورت کے کہ اس سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد بھی صوم رکھے۔ (متفق علیہ)

متفرق مسائل

          ۱۔ جس نے جمعہ کی ایک رکعت پالی اس نے جمعہ کی صلاۃ پالی ، بس دوسری رکعت اس سے ملاکر پوری کرلے لیکن جس شخص کو ایک رکعت سے کم صلاۃ مل سکی تو اسے ظہر پڑھنا ہوگا۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے: جب تم جمعہ کی ایک رکعت پاؤ تو اس کے ساتھ دوسری رکعت ملالو لیکن اگر (دوسری رکعت کا) رکوع فوت ہوجائے تو چار رکعتیں پڑھو ۔ (اسے البانی نے ارواء میں صحیح قرار دیا ہے)

          ۲۔ نیند کا غلبہ ہونے کی صورت میں اپنی جگہ بدل کر دوسری جگہ چلاجائے۔ نبی ﷺ کا ارشاد ہے: جب تم میں سے کسی کو جمعہ کے دن اونگھ آئے تو اپنی اس نشست کو بدل لے۔(صحیح ترمذی ، ابوداؤد)

          ۳۔ جو شخص کسی شرعی عذر مثلا بیماری وغیرہ یا کسی اور وجہ سے مسلمانوں کے ساتھ صلاۃ جمعہ کی ادائیگی کے لئے نہیں حاضر ہوسکا وہ صلاۃ ظہر پڑھے گا اور یہی حکم عورتوں ، مسافروں اور خانہ بدوشوں کا ہے ، سنت کی دلالت یوں ہی ہے اور جمہور اہل علم کا یہی قول ہے۔ (مجموع فتاوی شیخ ابن باز)

          ۴۔ مسافر پر جمعہ نہیں ہے کیونکہ نبی ﷺ اپنے اسفار میں جمعہ نہیں پڑھاکرتے تھے ۔ حجۃ الوداع میں عرفات کے میدان میں جمعہ کا دن تھا لیکن آپ نے جمعہ پڑھنے کے بجائے ظہر وعصر کو ایک ساتھ جمع تقدیم کرکے ادا کیا ، ایسے ہی خلفاء راشدین وغیرہ نے بھی کیاہے۔

          ۵۔ شہر اور دیہات ہر جگہ صلاۃ جمعہ قائم کی جائے گی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مسجد نبوی میں جمعہ کے بعد سب سے پہلا جمعہ بحرین کے اندر مقام جواثی میں قبیلہ عبد القیس کی مسجد میں پڑھا گیا ۔ (صحیح بخاری) عثمان بن ابی شیبہ فرماتے ہیں : جواثی قبیلہ عبد القیس کے دیہاتوں میں سے ایک گاؤں کا نام ہے۔ (ابوداؤد)

والحمد للہ رب العالمین وصلی اللہ علی نبینا وسلم

اعداد :   عبد الہادی عبد الخالق مدنی 

 

 

 

الأربعاء، 21 يناير 2026

 

 

مستحبات يوم الجمعة

جمعہ کے دن کے مستحب اعمال:

          جمعہ کے دن چند کام مستحب ہیں ، جن میں سے چند یہ ہیں:

          ۱۔ صلاۃ فجر میں پہلی رکعت میں سورہ سجدہ اور دوسری رکعت میں سورہ دہر کی تلاوت (متفق علیہ)

          ۲۔ نبی ﷺ پر بہ کثرت درود بھیجنا۔ رسول اﷲ ﷺ کا ارشاد ہے:’’ تمھارے دنوں میں سب سے افضل دن جمعہ کا دن ہے ، اسی دن آدم علیہ السلام پیدا کئے گئے اور اسی دن ان کی روح قبض کی گئی اور اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اسی دن لوگ (قیامت کے لئے )بے ہوش ہوں گے، اس دن مجھ پر زیادہ سے زیادہ درود بھیجوکیونکہ تمھارا درود مجھ پر پیش کیا جائے گا۔ صحابہ نے عرض کیا : اے اﷲ کے رسول! ہمارا درود آپ پر کیسے پیش کیا جائے گا جب کہ آپ بوسیدہ ہوچکے ہوں گے ، آپ نے فرمایا: اﷲ عزوجل نے انبیاء علیہم السلام کے جسموں کو زمین پر حرام کردیا ہے ‘‘۔ (صحیح نسائی وابوداؤد)

          ۳۔ سورہ کہف کی تلاوت ۔ رسول اﷲ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’جس نے جمعہ کے دن سورہ کہف کی تلاوت کی اس کے لئے ایک جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک نور کی چمک ہوگی‘‘۔(اسے حاکم نے روایت کیا ہے اور البانی نے إرواء میں صحیح قرار دیا ہے)

          ۴۔ غسل کرنا۔ نبی ﷺ کا ارشاد ہے: ’’جب تم میں سے کوئی جمعہ کے لئے آئے تو چاہئے کہ غسل کرے‘‘۔ (متفق علیہ) جمعہ کے دن غسل کا نبی ﷺ کا حکم وجوب کے لئے نہیں بلکہ استحباب کے لئے ہے جس کی دلیل آپ ﷺ کا یہ قول ہے کہ’’ جس نے جمعہ کے دن وضو کیا توسنت اور اچھی چیز ہے اور جس نے غسل کیا تو غسل افضل ہے‘‘۔ (صحیح ترمذی وصحیح نسائی)

          ۵۔ مسواک کرنا اور خوشبو لگانا۔ رسول ﷺ نے فرمایا: ’’ہر بالغ کو جمعہ کے دن غسل اور مسواک کرنا چاہئے نیز جس قدر میسر ہو خوشبو لگانی چاہئے‘‘۔(صحیح مسلم)

          ۶۔ حسب استطاعت عمدہ لباس پہننا ۔ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا:’’ جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اور خوشبو لگائی اگر اس کے پاس ہے اور اپنا عمدہ لباس پہنا پھر سکون کے ساتھ چل کر مسجد پہنچا پھر چاہا تو نفل صلاۃ پڑھی اور کسی کو تکلیف نہیں دی پھرجب امام نکلا تو خاموش رہا یہاں تک کہ صلاۃ ادا کی تو اس کا یہ عمل ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کا کفارہ ہوجائے گا‘‘۔ (مسند احمد) نیز نبی ﷺ نے فرمایا:’’ تم پہ کوئی حرج نہیں اگر تم میں سے کوئی پاسکے تواپنے کام کے کپڑوں کے سوا جمعہ کے لئے دو خاص کپڑے بنالے ‘‘۔(سنن ابی داؤد وابن ماجہ)

          ۷۔ صلاۃ کے لئے جلدی نکلنا ۔ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: ’’جس نے جمعہ کے دن غسل جنابت کی پھر مسجد گیا تو گویا اس نے ایک اونٹ کا صدقہ کیا اور جو دوسری ساعت میں گیا گویا گائے کا صدقہ کیا اور جو تیسری ساعت میں گیا گویا اس نے سینگ دار دنبے کا صدقہ کیا اور جو چوتھی ساعت میں گیا تو گویا اس نے مرغی کا صدقہ کیا اور جو پانچویں ساعت میں گیا تو گویا اس نے انڈے کا صدقہ کیا پھر جب امام نکل آتا ہے تو فرشتے ذکر ونصیحت سننے کے لئے حاضر ہوجاتے ہیں‘‘۔ (متفق علیہ)

          ۸۔ امام کے نکلنے تک نفلی صلاۃ اور ذکر میں مشغول رہنا ۔

           رسول اﷲ ﷺ کا ارشاد ہے: جس نے غسل کیا پھر جمعہ کو آیا اور جتنا مقدر ہوا صلاۃ پڑھی پھر امام کے خطبہ سے فارغ ہوجانے تک خاموش رہا پھر اس کے ساتھ صلاۃ اداکی تو اس جمعہ سے لے کر دوسرے جمعہ تک اور مزید تین دن تک کی بخشش کردی جاتی ہے۔ (صحیح مسلم)

          ۹۔ سورج ڈھلتے ہی جمعہ قائم کرنے میں جلدی کرنا۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سورج ڈھلتے ہی نبی ﷺ صلاۃ جمعہ پڑھا کرتے تھے ۔ نیز فرمایا: ہم جمعہ جلدی پڑھاکرتے تھے اور جمعہ کے بعد ہی قیلولہ کرتے تھے۔(صحیح بخاری)سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کاقول ہے: ہم سورج کا زوال ہوتے ہی رسول اﷲ ﷺ کے ساتھ جمعہ پڑھ لیا کرتے تھے پھر واپس ہوتے تو سایہ تلاش کیا کرتے (صحیح مسلم)

          ۱۰۔ جمعہ کی دونوں رکعتوں میں سورہ اعلی اور غاشیہ یا سورہ جمعہ اور منافقون کی تلاوت ۔ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اﷲ ﷺ عیدین اور جمعہ میں (سبح اسم ربک الأعلی) اور (ہل أتاک حدیث الغاشیۃ) پڑھا کرتے تھے ۔(صحیح مسلم) عبد اﷲ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ صلاۃ جمعہ میں سورہ جمعہ اور منافقون پڑھاکرتے تھے (صحیح مسلم)

          ۱۱۔ صلاۃ جمعہ کے بعد دو یا چار رکعتیں بطور سنت پڑھنا، مسجد میں پڑھنے والا چار رکعتیں پڑھے اور گھر میں پڑھنے والا دو رکعتیں پڑھے۔ عبد اﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : نبی ﷺ جمعہ کے بعد کوئی صلاۃ نہیں پڑھتے تھے یہاں تک کہ گھر واپس پلٹ کرجاتے اور دو رکعتیں پڑھتے۔ (متفق علیہ) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب تم میں سے کوئی صلاۃ جمعہ پڑھے تو اس کے بعد چار رکعتیں پڑھے۔(صحیح مسلم)

هذا والله أعلم وصلى الله على نبينا وسلم

اعداد :   عبد الہادی عبد الخالق مدنی 

 

 

 

الثلاثاء، 20 يناير 2026

 

 

أخلاق الداعية (2)

داعی کے اخلاق واوصاف (2)

تواضع

تواضع تکبر کی ضد ہے، داعی اپنی قدر پہچانے اور دوسروں کی تحقیر سے بچے۔ داعی یہ بات یاد رکھے کہ جس شاخ میں پھل لگتے ہیں وہ شاخ جھک جایا کرتی ہے۔ حدیث میں ہے: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ  رضی اللہ عنہ  عَنْ رَسُولِ اللَّهِ r قَالَ : مَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ (رواه مسلم) ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: جو آدمی اللہ واسطے تواضع اختیار کرتا ہے اللہ اسے بلند کرتا ہے۔ (مسلم)

حلم ورفق

حلم ورفق اور نرمی وبردباری داعی کی اہم صفات میں سے ہے۔اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کے بارے میں اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:

ﵟفَبِمَا رَحۡمَةٖ مِّنَ ٱللَّهِ لِنتَ لَهُمۡۖ وَلَوۡ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ ٱلۡقَلۡبِ لَٱنفَضُّواْ مِنۡ حَوۡلِكَۖﵞ [آل عمران: 159] 

(ترجمہ:اللہ تعالی کی رحمت کے باعث آپ ان پر رحم دل ہیں اگر آپ بدزبان اور سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے پاس سے چھٹ جاتے)۔

موسی اور ہارون علیہم السلام کو فرعون کے پاس بھیجتے ہوئے اللہ تعالی نے نرمی اختیار کرنے کی نصیحت کی۔ ارشاد فرمایا:

ﵟٱذۡهَبَآ إِلَىٰ فِرۡعَوۡنَ إِنَّهُۥ طَغَىٰ * فَقُولَا لَهُۥ قَوۡلٗا لَّيِّنٗا لَّعَلَّهُۥ يَتَذَكَّرُ أَوۡ يَخۡشَىٰﵞ [طه: 43-44] 

( ترجمہ:تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اس نے بڑی سرکشی کی ہے۔ اسے نرمی سے سمجھاؤ کہ شاید وہ سمجھ لے یا ڈرجائے)۔

نیز حدیث میں ہے: عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ  رضی اللہ عنہ  عَنْ النَّبِيِّ r قَالَ يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا وَبَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا. (رواه البخاري ومسلم) انس بن مالک  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: آسانی کرو، دشواری مت  کرو، خوشخبری سناؤ اور  نفرت مت دلاؤ۔ (بخاری ومسلم)

صبر وبرداشت

دعوت کی راہ مشکلات کی راہ ہے، صبر کے بغیر کوئی دعوتی عمل انجام نہیں دیاجاسکتا۔لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو جو نصیحت کی تھی اسے اللہ تعالی نے قرآن مجید میں ذکر کیا ہے، ارشاد ہے:

ﵟيَٰبُنَيَّ أَقِمِ ٱلصَّلَوٰةَ وَأۡمُرۡ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَٱنۡهَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَٱصۡبِرۡ عَلَىٰ مَآ أَصَابَكَۖ إِنَّ ذَٰلِكَ مِنۡ عَزۡمِ ٱلۡأُمُورِﵞ [لقمان: 17] 

(ترجمہ:اے میرے پیارے بیٹے! صلاۃ قائم کرو، اچھے کاموں کی نصیحت کرتے رہو، برے کاموں سے منع کیا کرو، اور جو مصیبت تم پر آجائے اس پر صبر کرو۔ یقین مانو کہ یہ بڑے تاکیدی کاموں میں سے ہے)۔

سورۂ عصر میں اللہ تعالی نے جن چار صفات کو خسارہ سے محفوظ رہنے کا ذریعہ بتایا ہے ان میں سے ایک صفت صبر ہے۔

داعی کو صبر وبرداشت کا خوگر ہونا چاہئے۔ وہ اپنی دعوت میں کسی اکتاہٹ کے بغیر پیہم لگا رہے۔نیز دعوت کی راہ میں پیش آنے والی تمام مشکلات کا خندہ پیشانی کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کرے۔

یہ اس روئے زمین پر اللہ کی سنت ہے کہ ہر داعیٔ حق کو اذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انبیاء کی تاریخ ہمارے سامنے ہے، کس طرح ان کا مذاق اڑایاگیا، ان کے ساتھ تمسخر کیا گیا، ان کو بدنام اور رسوا کرنے کی کوشش ہوئی، ان کو قتل کی دھمکی دی گئی  بلکہ قتل بھی کیا گیا، فرعون نے موسی علیہ السلام کے بارے میں جو کچھ  کہا تھا قرآن پاک میں اللہ تعالی نے بیان کیا ہے، ارشاد ہے:

ﵟوَقَالَ فِرۡعَوۡنُ ذَرُونِيٓ أَقۡتُلۡ مُوسَىٰ وَلۡيَدۡعُ رَبَّهُۥٓۖ إِنِّيٓ أَخَافُ أَن يُبَدِّلَ دِينَكُمۡ أَوۡ أَن يُظۡهِرَ فِي ٱلۡأَرۡضِ ٱلۡفَسَادَﵞ [غافر: 26] 

(ترجمہ: اور فرعون نے کہا کہ مجھے چھوڑو کہ میں موسی کو مار ڈالوں اور اسے چاہئے کہ اپنے رب کو پکارے، مجھے تو ڈر ہے کہ یہ کہیں تمھارا دین نہ بدل ڈالے یا ملک میں کوئی بہت بڑا فساد نہ برپا کردے)۔

یہودیوں کے بارے میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

ﵟذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ كَانُواْ يَكۡفُرُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَيَقۡتُلُونَ ٱلۡأَنۢبِيَآءَ بِغَيۡرِ حَقّٖۚ ذَٰلِكَ بِمَا عَصَواْ وَّكَانُواْ يَعۡتَدُونَﵞ [آل عمران: 112] 

(ترجمہ: یہ اس لئے کہ یہ لوگ اللہ تعالی کی آیتوں سے کفر کرتے تھے اور ناحق انبیاء کو قتل کرتے تھے)۔

عیسی علیہ السلام کو ان کے دشمنوں نے بزعم خویش پھانسی پر لٹکادیا لیکن اللہ تعالی نے حفاظت فرمائی اور زندہ آسمان پر اٹھالیا۔

خاتم الانبیاء محمد  صلی اللہ علیہ وسلم  کے خلاف چالیں چلی گئیں ، آپ کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی، آپ کو آپ کا وطن چھوڑنے کے لئے مجبور کیا گیا، آپ کو ساحر ودیوانہ کہا گیا، ان سب کے باوجود آپ نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا۔

داعی کے لئے انبیاء ورسل کی زندگیوں میں بہترین اسوہ ہے، داعی کو بھی کبھی صبر کا دامن اپنے ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

ﵟإِنَّهُۥ مَن يَتَّقِ وَيَصۡبِرۡ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجۡرَ ٱلۡمُحۡسِنِينَﵞ [يوسف: 90] 

(ترجمہ: بات یہ ہے کہ جو بھی پرہیزگاری اور صبر کرےتو اللہ تعالی کسی نیکوکار کا اجر ضائع نہیں کرتا)۔

هذا والله أعلم وصلى الله على نبينا وسلم

اعداد :   عبد الہادی عبد الخالق مدنی 

 

 

 

 

 

واجبات يوم الجمعة

جمعہ کے دن کے واجبات وفرائض

          ۱۔ خاموشی کے ساتھ بغور خطبہ سننا ، بات چیت نہ کرنا اور لغو ولایعنی کاموں کو چھوڑدینا۔ رسول اﷲ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’جمعہ کے دن امام کے خطبہ دیتے ہوئے اگر تم نے اپنے ساتھی سے کہا: خاموش ہوجا ، تو تم نے لغو کام کیا ‘‘(متفق علیہ)

          ۲۔ مسجد میں بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں پڑھنا خواہ اس وقت مسجد میں داخل ہو جب امام کے خطبہ دے رہا ہو۔ جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص جمعہ کے دن (مسجد نبوی میں ) داخل ہوا جب کہ نبی ﷺ خطبہ دے رہے تھے ، آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: تو نے صلاۃ پڑھ لی ، اس نے کہا: نہیں ، آپ نے فرمایا: ’’کھڑے ہو اور دو رکعتیں پڑھ۔‘‘  (متفق علیہ)

          جابر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ سلیک غطفانی جمعہ کے دن نبی ﷺ کے خطبہ دینے کی حالت میں آئے اور بیٹھ گئے ، آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: اے سلیک ! کھڑے ہو، دو رکعتیں پڑھواور ہلکی پڑھو پھر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ امام کے خطبہ دینے کی حالت میں آئے تو دورکعتیں پڑھے اور ان کو مختصر اور ہلکی پڑھے۔‘‘ (صحیح مسلم)

          ۳۔ صلاۃ جمعہ ۔ رسول اﷲ ﷺ کا ارشاد ہے: ’’جمعہ ہر مسلمان پر باجماعت ادا کرنا حق واجب ہے سوائے چار کے ، غلام جو کسی کی ملکیت میں ہو، عورت ، بچہ اور مریض ۔‘‘ (رواہ ابوداؤد وصححہ الألبانی)

هذا والله أعلم وصلى الله على نبينا وسلم

اعداد :   عبد الہادی عبد الخالق مدنی 

 

 

 

الاثنين، 19 يناير 2026

 

 

أخلاق الداعية (1)

داعی کے اخلاق واوصاف (1)

داعی کو کن اخلاق واوصاف کا حامل ہونا چاہئے ، کتاب وسنت کے اندر متعدد مقامات میں ان کا بیان آیا ہوا ہے۔ چند صفات کا ہم ذکر کرتے ہیں۔

Œاخلاص

داعی کی سب سے اہم صفت اخلاص ہے۔ اسے اپنے ہر عمل سے اللہ کی رضا مقصود ہونا چاہئے۔ ریا ونمود، شہرت، لوگوں کی واہ واہی، مال ودولت اور جاہ ومنصب کا حصول ہرگز نہیں مقصود ہونا چاہئے۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید کے اندر متعدد  انبیاء کرام سے متعلق  یہ ذکر کیا ہے کہ انھوں نے  اپنی قوم سے کہا:

ﵟوَمَآ أَسۡـَٔلُكُمۡ عَلَيۡهِ مِنۡ أَجۡرٍۖ إِنۡ أَجۡرِيَ إِلَّا عَلَىٰ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَﵞ [الشعراء: 109] 

(ترجمہ: میں تم سے اس پر کوئی اجر نہیں چاہتا، میرا بدلہ تو صرف رب العالمین کے ہاں ہے)۔

علم وبصیرت

داعی کی دوسری اہم صفت علم اور بصیرت ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

ﵟقُلۡ هَٰذِهِۦ سَبِيلِيٓ أَدۡعُوٓاْ إِلَى ٱللَّهِۚ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا۠ وَمَنِ ٱتَّبَعَنِيۖ وَسُبۡحَٰنَ ٱللَّهِ وَمَآ أَنَا۠ مِنَ ٱلۡمُشۡرِكِينَﵞ [يوسف: 108] 

(ترجمہ:آپ کہہ دیجئے میری راہ یہی ہے ۔ میں اور میرے متبعین اللہ کی طرف بلارہے ہیں پوری بصیرت کے ساتھ، اور اللہ پاک ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں)۔

بصیرت ایک ایسا جامع لفظ ہے جو علم وحکمت دونوں کو شامل ہے۔ علم وحکمت کی ضد جہالت وسفاہت ہے۔ ظاہر ہے کہ علم وحکمت کے بغیر جہالت وسفاہت کے ساتھ پیش کی جانے والی دعوت اصلاح کے بجائے فساد اور تعمیر کے بجائے تخریب کا باعث ہوگی۔

بصیرت اس علم ویقین کا نام ہے جو شرعی وعقلی دلائل وبراہین کی بنیاد پر قائم ہو۔ واقعہ یہ ہے کہ بصیرت دل کو نور عطا کرتا ہے۔ جس طرح خشک زمین کو پانی اور آنکھوں کو روشنی کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح قلب کو بصیرت کی حاجت ہوتی ہے۔ علم وبصیرت کے ذریعہ ہی حق وباطل میں تمیز اور صحیح وغلط کی پہچان ہوتی ہے۔ لہذا داعی کو چاہئے کہ وہ کتاب وسنت کا خالص علم حاصل کرے اور جو علم اسے دوسری راہ سے ملا ہو اسے لازمی طور پر کتاب اللہ اور سنت صحیحہ پر پیش کرے اگر ان کے موافق ہے تو قبول کرے ورنہ رد کردے۔ یہی علم وبصیرت کا تقاضا ہے۔

داعی کے لئے تین باتوں میں بصیرت بہت اہم ہے۔

j۔ اپنی دعوت میں بصیرت۔ داعی جس چیز کو واجب یا حرام قرار دے رہا ہو یقینی دلائل سے اس کا واجب یا حرام ہونا اسے معلوم ہو۔

k۔ مدعو کے حالات میں بصیرت۔ داعی کو چاہئے کہ جس شخص یا جس قوم کو دعوت پیش کرنے جارہا ہے ان کے تعلیمی وثقافتی نیز ذہنی وعقلی معیار کا علم رکھے اور اسی کے مطابق ان سے گفتگو کرے۔

l۔ طریقۂ دعوت میں بصیرت۔ داعی اپنی دعوت کو حکمت، موعظت حسنہ اور جدال احسن کے ذریعہ پیش کرے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں اس کی جانب رہنمائی کی گئی ہے۔

Žصداقت (سچائی)

داعی کی ایک اہم صفت صداقت بھی ہے۔  داعی اپنے قول میں بھی صادق ہو اور اپنے عمل میں بھی، قول کی صداقت یہ ہے کہ ہمیشہ سچی بات کہے اور کبھی کوئی ناحق اور جھوٹی بات نہ کہے اور عمل کی صداقت یہ ہے کہ اپنی دعوت کے مطابق عمل پیرا ہو۔

شریعت کے مطابق عمل خود ایک خاموش دعوت ہے لیکن جو شخص زبان سے دعوت پیش کررہا ہے اس کے لئے انتہائی ضروری ہے کہ وہ جس بات کی دعوت دے رہا ہے اس پر خود بھی عامل ہو، ایسا نہ ہو جیسا کہ یہودیوں کے بارے میں اللہ تعالی نے فرمایا:

ﵟأَتَأۡمُرُونَ ٱلنَّاسَ بِٱلۡبِرِّ وَتَنسَوۡنَ أَنفُسَكُمۡ وَأَنتُمۡ تَتۡلُونَ ٱلۡكِتَٰبَۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَﵞ [البقرة: 44] 

(ترجمہ: کیا لوگوں کو بھلائیوں کا حکم کرتے ہو اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو باوجودیکہ تم کتاب پڑھتے ہو ، کیا اتنی بھی تم میں سمجھ نہیں؟)۔

نیز اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

ﵟيَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفۡعَلُونَ 2 كَبُرَ مَقۡتًا عِندَ ٱللَّهِ أَن تَقُولُواْ مَا لَا تَفۡعَلُونَﵞ [الصف: 2-3] 

(ترجمہ:اے ایمان والو! تم وہ بات کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں ۔ تم جو کرتے نہیں اس کا کہنا اللہ تعالی کو سخت نا پسند ہے)۔

نیز حدیث میں ہے:  عن أسامة  رضی اللہ عنہ  قال قال رسول الله r : يُجَاءُ بِالرَّجُلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُلْقَى فِي النَّارِ فَتَنْدَلِقُ أَقْتَابُهُ فِي النَّارِ فَيَدُورُ كَمَا يَدُورُ الْحِمَارُ بِرَحَاهُ فَيَجْتَمِعُ أَهْلُ النَّارِ عَلَيْهِ فَيَقُولُونَ أَيْ فُلَانُ مَا شَأْنُكَ أَلَيْسَ كُنْتَ تَأْمُرُنَا بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَانَا عَنْ الْمُنْكَرِ قَالَ كُنْتُ آمُرُكُمْ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا آتِيهِ وَأَنْهَاكُمْ عَنْ الْمُنْكَرِ وَآتِيهِ. (رواه البخاري ومسلم)

اسامہ  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: ایک آدمی کو بروز قیامت لایاجائے گا اور جہنم میں ڈال دیاجائے گا ، آگ میں اس کی انتڑیاں باہر نکل آئیں گی اور وہ اس طرح چکر لگائے گا جیسے گدہا اپنی چکی کے ارد گرد گردش کرتا ہے۔جہنمی اس کے آس پاس اکٹھے ہوجائیں گے اور کہیں گے : اے فلاں! تمھاری یہ حالت کیوں ہے؟ کیا تم ہمیں بھلائی کا حکم نہیں دیتے تھے اور برائی سے روکتے نہیں تھے؟؟ وہ کہے گا: میں تمھیں بھلائی کا حکم دیتا تھا لیکن خود بھلائی نہیں کرتا تھا اور میں تمھیں برائیوں سے روکتا تھا لیکن خود برائی کیا کرتا تھا۔  (بخاری ومسلم)

صداقت اور سچائی کی ضد جھوٹ ہے ۔ داعی کبھی جھوٹا نہیں ہوسکتا کیونکہ جھوٹ نفاق کی بنیاد ہے نیز جھوٹ برائیوں کا راستہ دکھاتا ہے۔ جھوٹ کا اثر انسان کے چہرے اور اس کی آواز میں ظاہر ہوتا ہے، جھوٹے کی زبان سے تاثیر ختم ہوجاتی ہے۔

هذا والله أعلم وصلى الله على نبينا وسلم

اعداد :   عبد الہادی عبد الخالق مدنی